جدید تحقیق میں کام کی بات بتا دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) سائنسی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ اگر 66 روز تک کسی بری عادت کو ترک کیا جائے یا اچھی عادت کو اپنانے کی کوشش کی جائے تو اس سے مستقل مزاجی میں بہت مدد ملتی ہے۔ہماری کچھ اچھی عادتیں لاشعوری طور پر ہماری زندگی میں شامل ہوتی ہیں

نامور صحافی علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً صبح اٹھ کر دانت صاف کرنا، غسل کرنا یا پھر شام کی چائے پینا یا چہل قدمی۔ عین اسی طرح تمباکو نوشی یا وقت کا زیاں جیسی بری عادتیں مشکل سے جان چھوڑتی ہیں۔بعض ماہرین اور ایپس بتاتی ہیں کہ اچھی عادت کو معمول بننے میں 21 سے 40 دن تک اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن اب اس پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔ 21 دن کا معاملہ 1960 میں پلاسٹک سرجن میکسویل مالز کی ایک کتاب سے مقبول ہوا۔ انہوں نے کہا تھا کہ پلاسٹک سرجری کے 21 روز بعد مریض اپنے بدلے ہوئے چہرے سے مطمئن ہوجاتے ہیں۔پھر 2009 میں ایک تحقیق نے اس تصور کو رد کردیا کہ نئی اچھی عادت اختیار کرنے اور بری لت چھوڑنے کے لیے 21 دن کافی نہیں ہوتے۔اب یونیورسٹی کالج لندن میں 96 افراد پر 12 ہفتوں تک تحقیق کی گئی ہے۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ کوئی نئی عادت اپنانے میں اوسطاً 66 دن لگ سکتے ہیں۔ لیکن ہر فرد میں یہ صلاحیت مختلف ہوسکتی ہے اور اس میں 18 سے 254 دن لگ سکتے ہیں۔تاہم اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دو یا تین ہفتوں میں ہم کسی عادت کو اپنے رویے میں شامل نہیں کرسکتے بلکہ اس کے لئے کم سے کم دو ماہ درکار ہوتے ہیں۔ اسی لیے 21 روز کا مفروضہ اکثریت پر کام نہیں کرتا اور ضروری ہے کہ کسی بری عادت کو چھوڑنے کی روش 66 روز تک برقرار رکھی جائے تو اس کی ضرورت دماغ سے محو ہوجاتی ہے۔ اسی طرح عین اتنی ہی مدت میں ہم کسی اچھی عادت کو اپنے لاشعوری معمولات کا حصہ بناسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں