نامور کالم نگار کی زبانی جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں 2011میں میری والدہ اور 2015ءمیں میرے والد محترم کے انتقال پر وہ میرے گھرآئے تھے، اُن کے اِس عمل سے میرے دل میں اُن کی عزت اور قدر مزید اتنی بڑھ گئی تھی کہ اُن کے اقتدار کے لیے اُن کے ساتھ جدوجہد کرتے ہوئے سوائے عزت کے

سب کچھ میں نے داﺅ پر لگادیا تھا۔ نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔ اور اُن کے اقتدار میں آنے کے بعد اُن کی شدید ترین خواہش کے باوجود کسی بڑے سرکاری عہدے کی صورت میں کوئی صلہ بھی قبول نہیں کیا، جیسا کہ شریف برادران کے کچھ ”ذاتی دانشوروں“ نے اُن کے حق میں لکھ لکھ کر قبول کرلیا تھا، خان صاحب کے حق میں لکھنے کی پاداش میں نوائے وقت کے دروازے جب مجھ پر بند کئے جارہے تھے، اِک روز مجید نظامی مرحوم نے مجھے بُلا کر مجھ سے کہا ” یہ ایک نکما آدمی ہے آپ اِس کے حق میں کیوں لکھتے ہیں؟“….میں نے عرض کیا ” اِس کی بہت سی وجوہات ہیں، ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے وہ میرے ہردُکھ سُکھ میں شریک ہوا ہے، خصوصاً میرے والدین کے انتقال پر میرے گھر آکر اُس نے میری ڈھارس بندھائی تھی، مجھے حوصلہ دیا تھا“…. نظامی صاحب اِس پر خاموش ہوگئے تھے، یہ الگ بات ہے بعد میں اُنہوں نے خان صاحب کے حق میں لکھنے پر مجھ پر اتنی پابندیاں عائد کیں مجھے نوائے وقت چھوڑنے پر مجبور کردیا،…. یقین کریں میرا تو اب بھی یہی جی چاہتا ہے میں اُن کے خلاف ایک لفظ نہ لکھوں، پر اُن کی کچھ ایسی پالیسیاں ہیں، کم ازکم میں یہ سمجھتا ہوں وہ میرے ملک یا عوام کے حق میں نہیں ہیں، ایسی صورت میں، میں اُن پر تنقید کرنے پر مجبورہوجاتا ہوں، کسی بڑے سرکاری عہدے کو قبول کرنے سے معذرت کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے

کہ میں اُن کی خدمت میں وہی سچ پیش کرتا رہوں جو ایک مخلص دوست کی حیثیت میں میرا فرض بنتا ہے، کوئی شخص اپنی اوقات سے بڑھ کر اپنے پسندیدہ حکمرانوں سے کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ یا کوئی صلہ یا کوئی عہدہ قبول کرلیتا ہے پھر وہ اس کے سامنے سچ بولنے کی جرا¿ت نہیں کرسکتا، ہم نے تو اُن کے سامنے اِس قدر سچ بولایہ طعنہ بھی ہمیں سننا پڑا”بٹ صاحب اب آپ نے بھی نون لیگ کی زبان بولنا شروع کردی ہے“…. عرض کیا ”آپ اِس سے بھی سخت بات کہہ لیں جو میرے دل پر گراں گزرے کہ سالہا سال آپ کے ساتھ جدوجہد کرنے کا یہی صِلہ مجھے مِلنا تھا؟ پر جو غلط ہے اُسے صحیح کہنے کی ہمت میں نہیں کرسکتا“….میری آنکھوں میں اچانک جو اُداسی اُمڈآئی تھی وہ اُسے شاید بھانپ گئے تھے، پھر خود ہی فرمانے لگے” پر میں تمہیں بتاﺅں تمہارے بارے میں ہلکا سا شبہ بھی کبھی مجھے نہیں ہوا تم بدنیت ہو، اِسی لیے میں تمہاری باتوں کو اہمیت دیتاہوں“…. یہ اگر درست ہے وہ واقعی میری باتوں کو اہمیت دیتے ہیں اُن کی خدمت میں عرض ہے اب بھی وقت ہے وہ ”وزیراعظم“ بن جائیں، اپنا ظرف اپنے عہدے کے مطابق کرلیں، اور صرف مختلف چینلز کے اینکرز کو انٹرویو دیتے ہوئے اُن کے سخت سوالات سُن کر، اُنہیں برداشت کرکے، اُن کے جوابات تحمل سے دینے کی حدتک ہی اپنا ظرف بڑا نہ کریں، اس کے علاوہ بھی بے شمار معاملات ہیں جن میں اعلیٰ ظرفی کا اگر وہ مظاہرہ کریں، بے شمار بگڑے ہوئے مسائل کوئی بڑا نقصان ہونے سے پہلے پہلے حل ہوسکتے ہیں، ایک بگڑا ہوا معاملہ یہ بھی ہے ہزارہ برادری کے دُکھوں کا ازالہ وہ مستقل بنیادوں پر کریں، اُن کے ساتھ جو وعدے کرکے آئے ہیں اُنہیں پورا کرنے کی ہرممکن حدتک کوشش کریں، بلوچستان کی دیگر محرومیاں دُور کرنے اور اہل بلوچستان کے مسائل یا دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں، علاوہ ازیں چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنایا کریں، سوچ سمجھ کر بات کیا کریں، بات کرنے کوئی جملہ بولنے سے پہلے ہزار بارسوچا کریں، اور کچھ نہیں تو یہ سوچ کر ہی کچھ معاملات پر اپنی زبان یا اپنا منہ بندرکھا کریں کہ یہ مسئلہ میرے بولنے سے زیادہ میرے چُپ رہنے سے حل ہوسکتا ہے،…. جیسا کہ مچ میں ہزارہ برادری کے سوگوار خاندانوں کے پاس میتیں دفنانے سے پہلے نہ جانے کے حوالے سے اُنہوں نے غیر ضروری طورپر یہ فرمادیا تھا ”مجھے کوئی پریشرایز نہیں کرسکتا“…. یا پھر وہ پورا سچ بولا کریں کہ ”کون کون اُنہیں پریشرائز نہیں کرسکتا؟؟؟!!

اپنا تبصرہ بھیجیں