پنجاب کی تاریخ کا بہترین وزیراعلیٰ شہباز شریف اور بہترین بیوروکریٹ احد چیمہ دراصل کس جرم میں قید ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب کی پوری تاریخ میں میاں شہباز شریف سے زیادہ کسی حکمران نے کام نہیں کیا‘ پنجاب کو ہر دور میں تباہ ضرور کیا گیا لیکن اسے بنانے کا کام شہباز شریف کے علاوہ کسی نے نہیں کیا لیکن کیا نتیجہ نکلا؟ یہ نیب کی حراست میں پرفارمنس کی سزا

بھگت رہے ہیں‘ نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔احد چیمہ کا قصور بھی یہی تھا‘ اس نے ریکارڈ مدت میں پنجاب کو میٹروز اور بجلی کا تحفہ دیا‘ یہ اگر کام نہ کرتا تو ملک آج بھی اندھیرے میں ڈوبا ہوتا اور لاہور‘ راولپنڈی اور ملتان کی شہری زندگی ٹریفک جام میں سسک رہی ہوتی۔یہ بے چارہ بھی 35ماہ سے اپنے کارناموں کی سزا بھگت رہا ہے چناں چہ آپ ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں‘ قائداعظم سے لے کر شہباز شریف تک جس نے بھی کام کیا‘ جس نے بھی ملک پر احسان کیا وہ قید خانے ضرور پہنچا جب کہ ملک توڑنے‘ ملک کو نقصان پہنچانے اور کچھ نہ کرنے والے لوگ عزت اور آبرو کے ساتھ گھروں میں بیٹھے رہے‘ یہ کیا ہے؟ یہ ہماری اینٹی ڈویلپمنٹ سوچ ہے اورہم اینٹی بزنس بھی ہیں‘ آپ ملک میں دکان یا دفتر کھول کر دکھا دیں سسٹم آپ کو عبرت کا نشان بنا دے گا‘ آپ ٹیکس نہ دیں‘ آپ کو کوئی نہیں پوچھے گا لیکن آپ اگر ٹیکس پیئر ہیں تو پھر آپ کی پوری عمر فائلوں میں گزرے گی‘ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جس میں ہر بزنس مین کے خلاف مقدمہ ضرور بنتا ہے اور اس کی زندگی مقدمہ بازیوں اور سرکاری دفتروں میں گزرتی ہے۔آپ اگر کچھ نہ کریں تو سسٹم داماد کی طرح آپ کی عزت کرے گا لیکن آپ نے جس دن کام شروع کر دیا پورا ملک آپ کے خلاف اٹھ کھڑا ہوگا‘ آپ اپنے آپ سے لے کر ملک ریاض تک کوئی مثال دیکھ لیں‘ آپ کو ملک کے زوال کی وجہ معلوم ہو جائے گی‘یورپ دو تین لوگوں کو ملازمتیں دینے والوں کو خاندان سمیت امیگریشن دے دیتا ہے لیکن یہاں دو چار ہزار ملازموں والے قید میں سڑتے ہیں اور ہماری تیسری بری عادت ہم خوشی کے خلاف ہیں‘ ہم قہقہے‘ ہنسی اور تالی کو برا سمجھتے ہیں۔پوری دنیا میں نیوایئر سیلی بریٹ کی جاتی ہے لیکن ہمارے ملک میں 31 دسمبر کی رات پولیس سڑکوں پرپھر رہی ہوتی ہے‘ پوری دنیا میں لوگ شادیوں پر خوشیاں مناتے ہیں جب کہ ہم اپنی پھوپھیاں اور چاچیاں مناتے رہتے ہیں‘ عید‘ شب رات اور 14 اگست پر بھی لڑائیاں ہوتی ہیں‘ ہم خود خوش ہوتے ہیں اور نہ کسی دوسرے کو ہونے دیتے ہیں‘ آپ یقین کریں ہم جب تک اپنے یہ تین رویے نہیں بدلیں گے ہم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکیں گے‘ آپ یہ لکھ کر دیوار پر لگا لیں چناں چہ ہمیں عامر احمد علی جیسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں