ایم ایل ون صرف کاغذوں اورباتوں میں ہے حقیقت میں کچھ نہیں،ریلوے افسران کے تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد(این این آئی)وزارت ریلوے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو اڑھائی سال میں ایک بھی کامیاب منصوبہ بنانے میں ناکام ہوگئی،ارکان کمیٹی نے کہاکہ کوئی ایک چیزبتادیں کہ عوام کوبتاسکیں کہ اڑھائی سال میں یہ کامیابی ریلوے نے حاصل کی ہے؟ریلوے دن بدن تنزلی کی طرف جارہی ہے،ریلوے کے خراب حالت کی وجہ سے

سیاستدانوں کوعوام گالیاں دے رہی ہے،ایم ایل ون صرف کاغذوں اورباتوں میں ہے حقیقت میں کچھ نہیں ریلوے کے نظام کوٹھیک کرنے کے لیے افسران کچھ کریں۔ حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ 50 فیصد مسافرکوچزاپنی عمرپوری کرچکے ہیں ریلوے کو7 سو سے 8 سو مسافرکوچز کی کمی کاسامناہے،کروناکی وجہ سے بندہونے والی مسافرگاڑیوں کوکوچزکی کمی کی وجہ سے نہیں چلاپارہے ہیں جس کی وجہ سے خسارے میں اضافہ ہواہے، ممبرفنانس نے رائل پام کلب پر ریلوے حکام کی بریفنگ پر الزام لگایاکہ ریلوے کے اکاؤنٹ میں ایک روپے نہیں آرہامنافع جودیکھایاجارہاہے وہ حقائق کے برعکس ہے۔چیرمین کمیٹی معین وٹو کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کااجلاس منگل کوریلوے کیرج فیکٹری اسلام آبادکی کمیٹی روم میں ہوا۔ کمیٹی میں ایم این اے آفتاب جہانگیر،چوہدری حامد حمید،،امجد علی خان اور نصرت وحید، ارباب عامرایوب،ڈاکٹر محمدافضل خان ڈانڈالہ،طاہراقبال،انجینئر صابرحسین قائم خانی،علی پرویز،محمدخان داہا،اورنعمان اسلام شیخ نے شرکت کی۔کمیٹی میں ریلوے کی طرف سے سی ای او نثار میمن،ایڈیشنل سیکرٹری ریلوے عارف انور بلوچ،ممبرفنانس ریلوے ڈاکٹر اعظمیٰ، سیکرٹری ریلوے بورڈ ظفر زمان رانجھا،جنرل منیجرشہزاد عزیز، اے جی ایم مظہرعلی شاہ،ایم ڈی کیرج

فیکٹری غلام قاسم،یوسف ڈی ایس راولپنڈی منورشاہ،ودیگر حکام نے کمیٹی میں شرکت کی۔کمیٹی نے سابقہ اجلاس کے منٹس کی منظوری دی۔ چوہدری حامد حمید نے کہاکہ ریلوے کے انفر سٹکچر میں کوئی کمی نہیں ہے کمی یہ ہے کہ ہم ریلوے کو چلا نہیں سکے۔ اڑھائی سالوں میں ریلوے نہیں اٹھاہے محکمہ میں خوداحتسابی نہیں ہے ٹرنیوں

میں گندگی،لائٹ موجود نہیں ہر طرف مسائل کابحران ہے اس کی وجہ سے ریلوے مسافر ریلوے حکام کے ساتھ سیاست دانوں کوبھی برابلاکہتے ہیں اورہم بھی ا ن کی گالیوں کاشکار ہوتے ہیں اس حوالے سے ریلوے کواقدامات کرنے چاہیے۔چیرمین کمیٹی معین وٹو نے کہاکہ جو عملہ صفائی کے لیے رکھاہواہے وہ بھی کام نہیں کررہاہے

ریلوے سٹیشنوں اور کالونیوں میں صفائی ایک اہم مسئلہ ہے۔اڑھائی سال میں ریلوے میں کیا بہتری لا ئی ہے ہمیں بتایاجائے تاکہ ہم بھی عوام کوبتائیں کہ اڑھائی سال میں ریلوے میں یہ بہتری آئی ہے ہماری کمیٹی نے یہ کام کیاہے ایم ایل ون پر بہت بات ہوچکی ہے ایم ایل ون صر ف باتوں اور کاغذوں میں ہے حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ایم ایل

ون کو شروع کرنے پر کبھی ہماری طرف سے تاخیرہوگی اور کبھی چین کی طرف سے اس لیے جو ریلوے کانظام موجودہے اس کوٹھیک کیاجائے۔ریلوے میں ہمیں کچھ کرناہوگا ریلوے میں دن بدن تنزلی آرہی ہے ریلوے میں کوئی ترقی نہیں ہورہی ہے۔معین وٹو نے انتہائی دل برداشتہ ہوکرکہاکہ میں ریلوے حکام سے درخواست کرتاہوں کہ

ریلوے کی بحالی کے لیے کچھ کرو۔ریلوے میں کوئی ترقی نظرنہیں آئی۔کوئی بات بتانے کے لیے نہیں ہے ایک چیز بتادیں جو ہم لوگوں کوبتائیں۔جس پر تمام ارکان کمیٹی نے بھی ان کی حمایت کی اور ریلوے حکام سے سوال کیاکہ کوئی ایک چیز بتادی جائے کہ ہم نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔سی ای او ریلوے نثار میمن نے کمیٹی کوبتایاکہ

ہیڈکواٹر کی سطح پر انسپکشن ٹیمیں بنادی ہیں اس کے ساتھ ڈویڑن لیول پر بھی ٹیمیں بنائی ہیں جو کہ مسافرگاڑیوں میں صفائی اور ٹکٹ کی چیکنگ کرتی ہیں۔ریلوے میں مال بردار گاڑیوں کو بڑھارہے ہیں فریٹ سے ہونے والی آمدن کوتین ماہ میں بڑھایا ہے اب پہلے سے زیادہ فریٹ ریلوے اٹھارہی ہے۔مسافر ٹرنیوں کانظام ٹھیک ہوگیاتھامگر

فوگ کی وجہ سے دوبارہ ٹرینیں تاخیرکاشکار ہورہی ہیں۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ سابق وزیرشیخ رشید احمد نے کمیٹی کوبتایاتھاکہ مسافرٹرینیں بندکرنے سے منافع ہورہاہے بتایاجائے اصل صورت حال کیاہے۔جس پر سی ای او نثار میمن نے کہاکہ کروناکی وجہ سے جو مسافر ٹرینیں بندکی تھی ان کودوبارہ نہیں چلایاجارہاہے جس کی وجہ

سے نقصان ہواہے ہم چاہ رہے تھے کہ یہ گاڑیاں چلائیں گے تو خسارے میں کمی واقع ہوگی مگرمسافرکوچز کی کمی کی وجہ سے ابھی تک گاڑیاں بحال نہیں کرسکے۔ہم پر سب سے زیاد ہ بوجھ 39 ارب روپے سالانہ کاپنشن کاہے بجلی کی وجہ سے سالانہ 2 ارب روپے خسارہ ہوتاہے۔ ریلوے کیرج فیکٹری اسلام آباد کے حوالے سے

تفصیلی بریفنگ دی گئی فیکٹری میں 2ہزار11 کے قریب مسافر کوچز بنائی گئی ہیں۔ فیکٹری میں کل آسامیوں کی تعداد 1624 ہے جن میں سے 12 سو ملازمین کام کررہے ہیں۔گذشتہ سال 124کوچز بنائیں ہیں جبکہ اس سال 142کاٹارگٹ ہے اور ابھی تک 62 کوچز بنالی ہیں۔سالانہ کوچز کی تعداد 120 سے 150 کرنے کے لیے ہمیں

مزیدسوملازمین بھرتی کرنے کی اجازت دی جائے۔فیکٹری کومالی خودمختاری دی جائے۔امجدخان نیازی نے کہاکہ فیکٹری میں 12سو سے زائد ملازمین کام کررہے ہیں مگر دن میں ایک مسافرکوچ بھی نہیں بن رہی ہے فیکٹری میں جدت لے کرآئیں اس سے آمدن بھی بڑے گی اور فیکٹری کی استعداد کار میں بھی اضافہ ہوگا۔ رائل پام گلف

اینڈکنٹری کلب کاریلوے کی طرف سے قبضہ واپس لینے کے بعد مالی حالت کے حوالے سے تھا پر متعلقہ حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ کروناکے وجودکسی کونوکری سے نہیں نکالاہے جبکہ گذشتہ تین ماہ میں گلب کومنافع ہواہے تین ماہ میں کل آمدن 56کروڑ76لاکھ99ہزار295 روپے اخراجات 47 کروڑ87 لاکھ95 ہزار954 روپے ہوئے ہیں

جبکہ اس دوران 8 کروڑ89 لاکھ 3ہزار341 روپے ہواہے۔کمیٹی میں ممبرفنانس وزارت ریلوے ڈاکٹر اعظمیٰ نے کمیٹی کوبتایاکہ غلط معلومات کمیٹی کودی جارہی ہیں اس معاملے پر کمیٹی کوگمراہ کیاجارہاہے اور اس کے لیے سپریم کورٹ کے حکم کی بھی غلط تشریح کی جارہی ہے کلب کوئی منافع نہیں ہوااور نہ ہی ایک روپیہ ریلوے

ااکاؤنت میں آیاہے اس سے ریلوے کونقصان ہورہاہے۔کلب کومنافع میں بتانے والے صرف یہ بتادیں کہ یہ پیسے کس اکاؤنٹ میں پڑے ہیں سب جھوٹ بولاجارہاہے۔جس پر چیرمین نے ارکان کمیٹی کے کہنے پر ایجنڈے کواگلے اجلاس تک موخرکردیاکہ اس پر تما م سٹاک ہولڈرکوبلاکربریفنگ لینے کے بعد کوئی سفارش کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں