حامد میر نے خوفناک حقائق سامنے رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سال 2021ء کا آغاز صرف ہمارے پاور ٹرانسمیشن سسٹم میں بریک ڈاؤن سے نہیں ہوا ۔اس سال کے آغاز میں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے میں بریک ڈاؤن بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔ تین جنوری کو

بلوچستان کے علاقے مچ میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے گیارہ مزدوروں کو زندگی سے محروم کردیا گیا ۔ان غریبوں کے لواحقین نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان خود کوئٹہ آکر انہیں مجرموں کی گرفتاری کی تحریری یقین دہانی کرائیں اور جب تک وزیراعظم نہیں آئیں گے وہ اپنے پیاروں کی میتیں دفن نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ اور کچھ وفاقی وزراء کو بھیج دیا اور یقین دلایا کہ ہزارہ برادری کے مظلوموں کو انصاف ضرور ملے گا لیکن ہزارہ برادری اور حکومت کے درمیان معاملات طے نہ ہو سکے۔وزیر اعظم نے ضد لگالی کہ وہ اسی صورت کوئٹہ جائیں گے جب میتوں کو دفنایا جائے گا۔ مچ میں جان بحق ہونے والوں کے لواحقین کے حق میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں دھرنے شروع ہو گئے۔آٹھ جنوری کو وزیراعظم نے کہا کہ میں پریشر میں نہیں آؤں گا آپ جس دن میتیں دفنائیں گے میں اسی دن کوئٹہ آ جاؤں گا۔ چھ دن کے احتجاجی دھرنے کے بعد نو جنوری کو ہزارہ برادری نے اپنے پیاروں کی میتیں دفنائیں اور اسی دن وزیر اعظم نے کوئٹہ جاکر ان کے لواحقین سے تعزیت کی۔وزیر اعظم جیت گئے اور مقتولین کے مظلوم وارث ہار گئے لیکن گیارہ میتوں کے ساتھ ساتھ احترام اور اعتماد کا وہ رشتہ بھی کہیں دفن ہو گیا جو ریاست اور عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے۔اس رشتے کی اصل حقیقت وہ باتیں نہیں ہیں جو وزیر اعظم عمران خان نے کوئٹہ میں جان بحق ہونیوالوں کے وارثوں سے کہیں۔ اس رشتے کی اصل حقیقت وہ نعرے ہیں

جو ان کے جنازے میں بلند کئے گئے۔ یہ نعرے ٹی وی چینلز پر تو سنائی نہیں دیئے لیکن سوشل میڈیا پر ضرور سنائی دیئے اور محب وطن عناصر نے نعرے لگانے والوں کو غدار قرار دیا۔جنازے میں شریک ان ہزاروں ’’غداروں ‘‘ کے خلاف شوق سے مقدمے قائم کریں لیکن کوئی یہ بتانے کی زحمت کرے گا کہ اس ملک میں حب الوطنی کا بریک ڈاؤن کیوں ہو چکا ہے؟ غداروں کا ٹرن آؤٹ دن بدن بڑھتا کیوں جا رہا ہے؟ایک زمانے میں ریاست کو ماں کا درجہ دیا جاتا تھا لیکن آج ماں کو اس کے بچوں سے کسی نے چھین لیا ہے۔ اصلی ماں کسی قید خانے میں پڑی ہے اور جو خود کو زبردستی اس ریاست کی ماں قرار دیتی ہے اسے بچے اپنی ماں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں کیونکہ بچوں کو ماں کے روپ میں ممتا نظر نہیں آتی۔بچے اپنی ماں کے خلاف نہیں ہیں وہ تو اپنی اصلی ماں کی رہائی اور بحالی چاہتے ہیں۔اصلی ماں کی رہائی آئین و قانون کی بالادستی سے مشروط ہے لیکن افسوس کہ آئین و قانون کا بھی بریک ڈاؤن کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ اس بریک ڈاؤن کے باعث طاقتور کے لئے الگ قانون ہے اور کمزور کیلئے الگ قانون ہے۔ اس بریک ڈاؤن کی وجہ سے سیاست اخلاقیات اور صحافت سچائی سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ معاملہ صرف سیاست و صحافت تک محدود نہیں۔معاشرے کی اخلاقی قدروں کا بلیک آؤٹ ہو رہا ہے۔ ہر طرف اندھیرا چھا رہا ہے اور جو ان اندھیروں کی نشاندہی کرے اور بریک ڈاؤن کی اصل وجوہات بتانے کا مطالبہ کرے اسے ریاست کا دشمن قرار دیدیا جاتا ہے۔غریبوں کی زمینوں پر قبضے کرنیوالے، ہاؤسنگ اسکیموں کے نام پر فراڈ کرنیوالے، ہسپتال اور یونیورسٹیاں بنا کر بزنس کرنے والے اور مذہب کے نام پر نفرتیں پھیلانے والے محب وطن ہیں اور جو بدامنوں کی گرفتاری کی تحریری یقین دہانی مانگے وہ پریشرائز کرنے والا بھی ہے‘ غدار بھی ہے۔ لیکن اس بریک ڈاؤن اور بلیک آؤٹ میں امید کی کچھ کرنیں باقی ہیں۔وہ سب پاکستانی جو ریاست کے وجود میں ممتا تلاش کر رہے ہیں انہیں آئین و قانون کی بالادستی کیلئے متحد ہونا ہو گا اور اپوزیشن کے ان نام نہاد جمہوریت پسند لیڈروں سے بھی ہوشیار رہنا ہو گا جنہیں ماں نہیں بلکہ اپنا ذاتی مفاد عزیز ہے۔ایک بڑے بریک ڈاؤن سے بچنا ہے تو ماں کو رہا کرانا ہو گا اور ماں کی رہائی کے لئے بچوں کو آپس میں متحد ہونا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں