جاوید چوہدری نے پاکستان کے بے روزگار نوجوانوں کے کام کی باتیں بتا دیں

لاہور (ویب ڈیسک) ہمارے رشتے داروں اور دوستوں کے طعنے ہماری زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں‘ ہم نے بس ان کو مثبت لینا ہوتا ہے‘ میں پاکستان کے تین ایسے نوجوانوں کو جانتا ہوںجنھیں لوگوں کے طعنوں نے جھانوی کی طرح اسٹار بنا دیا‘ یہ تینوں سی ایس پی افسر ہیں

اور یہ تینوں انتہائی پسماندہ علاقوں سے نکل کر سامنے آئے‘ پہلا افسر ڈی ایم جی ہے‘ یہ سندھ کے دور دراز گائوں سے تعلق رکھتا تھا‘ مذہبی گھرانے میں پیدا ہوا‘ باریش تھا اور زندگی میں کبھی اپنے گائوں سے باہر نہیں نکلا تھا۔بی اے بھی پرائیویٹ کیا تھا لیکن پھر سی ایس ایس کا امتحان دیاا ور پہلی کوشش ہی میں ڈی ایم جی میں آ گیا‘ میں نے اس سے کامیابی کے وجہ پوچھی تو اس نے مجھے چھوٹا سا ٹوٹا ہوا ریڈیو دکھا دیا‘ اس کا کہنا تھا‘ دنیا میں اللہ کے بعد یہ میرا سب سے بڑا محسن ہے‘ میں نے تفصیل جاننا چاہی‘ اس نے بتایا ’’میں اس سے روز بی بی سی کی خبریں سنتا تھا‘ انائونسر کے لہجے کی نقل کرتا تھااور خبروں کے مواد کو اپنے ذہن میں اتار لیتا تھا چنانچہ مجھے انگریزی بھی آ گئی اور میرے پاس علم کا انبار بھی لگ گیا‘ میں نے اس سے سی ایس ایس کر لیا‘‘۔ دوسرا نوجوان اس وقت ایس پی ہے۔یہ اسکول ٹیچر کا بیٹا تھا‘ گائوں میں بجلی تک نہیں تھی‘یہ لالٹین کی روشنی میں پڑھتا تھا‘ اس نے ہسٹری کی کتابوں سے انگریزی کے دو سو شاندار ترین فقرے رٹ لیے اور یہ سی ایس ایس کر گیا۔ تیسرا نوجوان بھی پولیس سروس میں ہے‘ یہ یتیم تھا‘ ماموں کی بھینسیں چراتا تھا‘ یہ بھینسیں چراتے ہوئے کتابیں پڑھتا رہتا تھا‘ اس کے رشتے دار اس کا مذاق اڑاتے تھے ’’اوئے بھینسوں پر توجہ دیا کرو‘ تم نے پڑھ کر کون سا بائو بن جانا ہے‘‘

اور اس نے یہ طعنہ سن کر بائو بننے کا فیصلہ کر لیا‘ اس نے بھینسیں چراتے چراتے سی ایس ایس کی تیاری کی‘ امتحان دیا اور پاس ہو گیا۔انٹرویو کے دن اس نے لنڈے کی پتلون پہن رکھی تھی اور یہ ٹائی کے بغیر بورڈ کے سامنے پیش ہوا تھا‘ بورڈ نے ٹائی نہ لگانے پر اعتراض کیا تو اس نے جواب دیا ’’سر میرے پاس ٹائی نہیں تھی‘ میں نے پتلون بھی لنڈے کی پہن رکھی ہے‘‘ یہ آج کل ایس ایس پی ہے اوریہ اپنے علم سے لوگوں کو حیران کر دیتا ہے‘یہ تینوں لوگوں کے طعنوں کی پیداوار ہیں‘ یہ پڑھتے تھے تو لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے‘ قہقہے لگاتے تھے‘ لوگ قہقہے لگاتے رہے‘ ان کا مذاق اڑاتے رہے اور یہ چیونٹی کی طرح ایک ایک انچ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ ہنسنے والے پیچھے رہ گئے اور یہ آسمان پر اڑنے لگے۔میں نے کسی جگہ پڑھا تھا‘ ہم سب اندر سے پٹرول سے بھرے ہوتے ہیں‘ ہمیں بس چنگاری چاہیے ہوتی ہے اور دنیا کی بہترین چنگاری دوسروں کے طعنے ہوتے ہیں‘ یہ ہم میں آگے بڑھنے کی ’’برننگ ڈیزائر‘‘ پیدا کرتے ہیں‘ یہ ہمیں یہ بتاتے ہیں ’’جھانوی تمہارے پاس کامیاب ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں‘‘ اور ہم کام یاب ہو جاتے ہیں‘جھانوی نے سچ کہا تھا‘ طعنے دینے والے لوگ آپ کے دشمن نہیں ہوتے‘ یہ آپ کے ہیلپر ہوتے ہیں‘ آپ نے بس ان لوگوں اور ان کے طعنوں کو گائیڈ لائین سمجھنا ہے‘ آپ پھر دیکھیں یہ آپ کو زمین سے اٹھا کر آسمان تک پہنچا دیں گے۔بل گیٹس نے کہا تھا‘ آپ غریب پیدا ہوئے ہیں‘ اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں لیکن آپ اگر غریب فوت ہو گئے تو پھر صرف اور صرف آپ ذمے دار ہیں‘ میں اکثر اس فقرے کو تھوڑا سا بدل دیتا ہوں‘ میں عرض کرتا ہوں‘ آپ سوشل میڈیا سے پہلے ناکام اور جاہل تھے تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں لیکن آپ اگر آج سوشل میڈیا اور فائیو جی کے دور میں بھی جاہل اور ناکام ہیں تو پھر ذمے دار صرف اور صرف آپ ہیں‘ذرا آپ سوچیے !آپ یوٹیوب کے ذریعے کہاں سے کہاں پہنچ سکتے ہیں؟ آپ نے بس طعنے سننے ہیں اور یوٹیوب کو اپنا استاد‘ اپنا مرشد بنا لینا ہے‘ میں گارنٹی دیتا ہوں آپ ان شاء اللہ بہت آگے نکل جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں