برطانوی خاتون افسر جیل میں پاکستانی قیدی کو دل دے بیٹھیں نوجوان کو کئی سہولیات فراہم ، پتہ چلنے پردونوں کو سخت سزا سنا دی گئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی جیل میں قید پاکستانی نوجوان اور خاتون افسر کے درمیان معاشقے کا انکشاف، میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں کے مابین دوستی اور معاشقے کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب دونوں کی ویڈیوز سامنے آئیں۔27 سالہ عائشہ گن کا 29 سالہ خرم رزاق کے ساتھ جیل میں ہی معاشقہ شروع ہوا

جس کے بعد خاتون نے سوشل میڈیا پر جیل سیل میں لی گئی بوس و کنار کی تصاویر شیئر کیں۔خرم رزاق کو برمنگھم کرائون کورٹ نے 2008 میں ڈکیتی کرنے کے جرم میں 10 سال قید کی سزاسنائی تھی جس کے بعد 2015 میں اسے ڈکیتی کی سازش تیار کرنے کے جرم میں 12 سال کی قیدکی سزا سنائی گئی۔عائشہ گن پر الزام ہے کہ انہوں نے خرم رزاق کو جیل میں ہی کپڑے، سمارٹ واچ اور موبائل فون فراہم کیے۔برطانوی خاتون افسر عائشہ گن اور پاکستانی نوجوان خرم رزاق کے مابین 4 ماہ تک دوستی رہی تھی اور اس دوران وہ فون پر رابطے میں رہتے تھے۔دونوں نے موبائل فون پر تین مختلف نمبرز کے ذریعے 1200 بار رابطہ کیا۔عائشہ گن کو نومبر 2018 میں پبلک آفس کا غلط استعمال کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ جوڑے نے فحش ویڈیوز اور تصاویر کا بھی آپس میں تبادلہ خیال کیا۔ علاوہ ازیں عائشہ گن کو 12 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔عائشہ گن کی سزا دسمبر 2020میں شروع ہوئی ہے جب کہ خرم رزاق مارچ 2021 میں جیل سے رہا ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں