واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی،صارفین کی حساس معلومات کا ڈیٹا شیئرنگ ، حکومت نے بھی اہم قدم اٹھانے پر غور شروع کر دی

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر برائے ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی سے متعلق کہا ہے کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے سخت قانون پر غور کررہی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں فواد چوہدری نے کہا

کہ واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی، صارفین کی حساس معلومات کے ڈیٹا شیئرنگ کی اجازت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، شہریوں کی پرائیویسی پالیسی کے لیے تحفظ کے لیے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مضبوط قانون متعارف کروانے پر غور کررہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یکطرفہ نقطہ نظر کے بجائے اس طرح کی پالیسی تبدیلیاں بڑے پیمانے پر مشاورت کے بعد لانی چاہئیں۔خیال رہے رواں ہفتے کے آغاز سے واٹس ایپ نے اپنی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کا آغاز کیا ہے اور ایپلیکشن کے استعمال کے لیے شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی میں تبدیلیاں لاتے ہوئے ایپ کے اندر نوٹی فکیشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔واٹس ایپ کے نئے ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کا نفاذ 8 فروری 2021 سے ہوگا اور صارفین کو انہیں لازمی قبول کرنا ہوگا، دوسری صورت میں ان کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھکارٹ نے وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نئی پالیسی سے صارفین متاثر نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا ‘اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے باعث ہم یا فیس بک آپ کے نجی پیغامات یا کالز کو نہیں دیکھ سکتے، ہم اس ٹیکنالوجی کی فراہمی اور عالمی سطح پر اس کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں’۔انہوں نے واٹس ایپ سیکیورٹی کا ایک لنک میں ٹوئٹ میں شامل کیا جہاں تفصیل کے ساتھ وضاحت کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں