بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

کوئٹہ ویب ڈیسک) نامور خاتون صحافی منزہ انوار بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ کی کوئلہ فیلڈ میں نامعلوم افراد کے دھاوے میں زندگی سے محروم کیے جانے والے ہزارہ متاثرین کے لواحقین کا اپنے پیاروں کی میتوں سمیت دھرنا آج جمعے کو چھٹے دن بھی جاری ہے

اور دھرنے کے شرکا وزیراعظم عمران خان کی آمد تک اس کے خاتمے اور میتوں کو دفنانے پر آمادہ دکھائی نہیں دے رہے۔اسلام آباد میں سپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے قیام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران کا کہنا تھا کہ ہزارہ متاثرین کے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں لیکن یہ کہنا ہے جب تک وزیراعظم نہیں آئیں گے ہم لاشوں کو نہیں دفنائیں گے، کسی بھی ملک کے وزیر اعظم کو اس طرح پریشرائز نہیں کر سکتے۔جہاں کئی افراد کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے ان کی پہلے سے طے شدہ مصروفیات ہیں تو کئی دیگر کا ماننا ہے کہ عمران خان کی جگہ کوئی اور وزیِر اعظم بھی ہوتا تو ایسا ہی کرتا۔کچھ افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کوئٹہ اس لیے نہیں جا رہے کیونکہ ایسا کرنے سے وہ کمزور لگیں گے۔ اگر یہ مثال قائم ہو جائے کہ احتجاج کرکے وزیرِ اعظم سے بات منوائی جا سکتی ہے تو یہ کوئی اچھی روایت نہیں ہو گی۔کچھ تجزیہ کار یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ وزیِر اعظم کے اب تک کوئٹہ نہ جانے کا کمزر لگنے یا حفاظتی معاملے ی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اور ان کا ماننا ہے عمران خان بس ہزارہ افراد کی زبانی تسلی و تشفی سے کام چلانا چاہتے ہیں اور حقیقت میں ان کا وہاں جانے کا کوئی ادارہ نہیں۔جبکہ دوسری جانب کئی افراد کا یہ بھی ماننا ہے کہ جب تک وزیر اعظم عمران خان کو حفاظتی کلیئرنس نہیں ملتی انھیں بلوچستان جانے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

اور ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایسے افراد جو عمران خان پر کوئٹہ جانے کے لیے دباو ڈال رہے ہیں ضرور کسی سازش کے تحت ایسا کر رہے ہیں۔اس ساری بحث میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیرِاعظم عمران خان کے اب تک کوئٹہ نہ جانے میں آخر کیا چیز مانع ہے؟آخر وہ کیا وجوہات ہیں جو اس دکھ کی گھڑی میں ہزارہ متاثرین کے مطالبے کے باوجود وزیرِ اعظم عمران خان کو ان کے پاس جانے سے روک رہی ہیں، کیا ان کے اب تک کوئٹہ نہ جا سکنے میں ان کی مصروفیات حائل ہیں یا انھیں کوئی خدشات لاحق ہیں یا انھیں متاثرین کی جانب سے کوئی گارنٹی چاہیے کہ ان کے جانے پر میتیوں کو یقیناً دفنا دیا جائے گا اور کوئی ایسے مطالبات نہیں کیے جائیں گے جنھیں پورا کرنا حکومت کے لیے مشکل ہو۔بی بی سی نے یہی سوال وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز سے کیا، ان کا کہنا تھا کہ ’وزیرِ اعظم عمران خان کے کوئٹہ نہ جانے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہے اور کسی نے نہیں کہا ہے کہ وہ نہیں جائیں گے۔ وزیرِاعظم کوئٹہ ضرور جائیں گے، ہو سکتا ہے وہ کل چلے جائیں، یا پرسوں چلے جائیں۔‘وزیرِاعظم عمران خان کے اب تک کوئٹہ نہ جانے کی وجوہات بتانے سے انکار کرتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھا ’ہر چیز کی کوئی وجہ نہیں ہوتی اور ہمارا صرف یہی موقف ہے کہ وزیر اعظم موقع ملتے ہی کوئٹہ جائیں گے۔‘شبلی فراز کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ حکومتِ پاکستان ہے کوئی ’فلائی بائے نائٹ آؤٹ فٹ‘ نہیں اور ہماری حکومت فیصلے کرتی ہے، ضروری نہیں کہ ہم کیوں اور کیوں نہیں کا جواب اور تفصیلات دیں۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں