ہزارہ قبیلے نے کافی عرصہ قبل واپس اپنے وطن جانے سے کیوں انکار کر دیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہزارہ قبیلہ چوتھے منگول حکمران ارغون خان کے بیٹے ’’غیاث الدین محمد خدابندہ‘‘ کی اولاد ہیں۔ یہ ارغون خان کی تیسری عیسائی بیوی کا بیٹا تھا جس کا نام ماں نے نکولس رکھا اور عیسائی پادری کے پاس جا کر بپتسمہ بھی دلوایا۔

یہ اور اس کا بھائی غازان خان دونوں عیسائت سے بیزار ہوکر مسلمان ہوگئے۔ غازان خان نے اپنا نام محمود اور نکولس نے اپنا نام محمد رکھا۔یہ دونوں سنی العقیدہ مسلمان تھے،لیکن خدابندہ کے بقول وہ حنفی اور شافعی اختلافات سے اس قدر بیزار ہوا کہ اس نے شیعہ علمائ’’الہلی‘‘ اور’’البحرانی‘‘ کیساتھ نشست و برخاست شروع کی اور پھر 1310ء میں اثنا عشریہ شیعہ ہوگیا۔جبکہ دوسرا بھائی غازان خان سُنی رہا اور وہ منگول سلطنت کا سربراہ بھی بنا،جو تبت سے لے کر دجلہ و فرات تک پھیلی ہوئی تھی۔اس نے منگولوں کا سرکاری مذہب اسلام قرار دیا اور اسی کی وجہ سے تمام منگول جوق در جوق مسلمان ہوگئے۔اسی کے بارے میں اقبالؒ نے کہا تھا ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے میں پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے غیاث الدین محمد خدابندہ کے ساتھ منگولوں کی ایک بہت بڑی تعداد شیعہ ہوگئی،جو بعد میں ہزارہ کہلائی جو دراصل منگولوں کی ایک فوجی یونٹ سے تعلق رکھتی تھی جو ایک ہزار فوجیوں پر مشتمل تھی۔ غازان خان نے اپنی سلطنت میں اسلامی قوانین نافذ کئے،مے نوشی اور اسکے کاروباراور سود پر پابندی لگائی۔اس کے انتقال کے بعد محمد خدابندہ حکمران ہوا تو اس نے حجاز کے علاقے پر لشکر کشی کی تاکہ اسے ایرانی منگول سلطنت کا حصہ بنایا جائے،لیکن جزیرہ عرب اور حجاز کے حکمران حسام الدین محمد ابن عیسیٰ نے بصرہ عبور کرتے ہی اس لشکر کو بدترین شکست سے دوچار کر دیااور پوری فوج بکھر کر رہ گئی۔اس کے چند ماہ بعد مشہور عالم اور مؤرخ جس نے ’’جامع التواریخ‘‘مرتب کی،

رشید الدین فضل اللہ ہمدانی،اس نے ہزارہ قبیلہ کے مورث اعلیٰ خدابندہ جو خود کوچینی نام’’اولجائتو‘‘ سے بلواتا تھا،اسے زندگی سے محروم کیا گیا ۔اس جرم میں رشید الدین فضل اللہ ہمدانی کو گردن زدنی ٹھہرایا اور سزا دلوائی۔ایران کی علمی تاریخ کا یہ روشن ستارہ اپنی قائم کردہ مشہور علمی درسگاہ’’ربع رشیدی‘‘کے قبرستان میں دفن کردیا گیا۔آج اس عظیم درسگاہ کے صرف کھنڈرات میں نظر آتے ہیں۔رشید الدین فضل اللہ ہمدانی ایک قوم پرست ایرانی تھا،جس نے جامع التواریخ میں پہلی دفعہ اس خطے کا نام ایران رکھاتھااور اس کی شاعری ’’پہلوی نظمیں‘‘ کلاسیک کا درجہ رکھتی ہیں۔جب امیر تیمور کا بیٹا جلال الدین میران شاہ حکمران ہوا، ۔ اسی نوعیت کے بے شمارگروہی، سیاسی اور مسلکی اختلافات اور لڑائیوں کی وجہ سے’’اولجائتو‘‘کا وفادار منگول ’’ہزارہ قبیلہ‘‘افغانستان کے دوردراز پہاڑی علاقے ’’ہزارہ جات‘‘ میں جاکر آباد ہو گیا۔ چند صدیوں بعد ہزارہ جات میں آباد یہ پُرامن قبیلہ اس وقت ایک بہت بڑی کشمکش کا شکار ہوا، جب امیر عبدالرحمٰن 1889ء میں افغانستان میں برسراقتدار آیا تو اس کے خلاف اس کے چچازاد بھائی محمد اسحٰق نے بغاوت کر دی اورہزارہ قبیلہ کے سربراہ شیخ علی ہزارہ نے محمد اسحٰق کا ساتھ دیا۔اس لڑائی میں ہزاروں کے خلاف دیگر قبائل کو اکٹھا کرنے کیلئے امیر عبدالرحمٰن نے اسے ایک مذہبی رنگ دیا اور سُنی شیعہ تقسیم کا آغاز کیا،یوں اس نے ’’سُنی ہزاروں‘‘کو ’’شیعہ ہزاروں‘‘ سے لڑوا کر ان کی طاقت کو منتشر کر دیا۔اس کے بعد امیر عبدالرحمٰن نے ان پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیئے۔ہزارہ جات کے علاقہ کوایک عقوبت خانہ بناکر رکھ دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سے اس قبیلہ کے

افراد ہجرت کر کے مختلف علاقوں میں پناہ گزین ہونے لگے جن میں ایک کوئٹہ شہر بھی تھا جہاں انگریز کی عملداری تھی۔دوسری افغان وار کے دوران ہزاروں نے انگریز فوج میں ملازمت اختیار کی اور کوئٹہ کو اپنا مسکن بنا لیا۔امیرعبد الرحمٰن کے بعد اسکا بیٹاحبیب اللہ برسرِ اقتدار آیا تو اس نے ہزاروں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا۔ لیکن کوئٹہ شہر میں آبادہزار ے واپس جانے پر راضی نہ ہوئے۔ اس لیے کہ یہ لوگ برطانوی فوج میں اتنی بڑی تعداد میں بھرتی ہوچکے تھے کہ 1904ء میں ان کی ایک علیحدہ رجمنٹ ’’ہزارہ پائنیرز‘‘ بنائی گئی۔کوئٹہ کی مشرقی سمت پہاڑ کے دامن میں مولانا ابو الاعلی مودودی کے ایک بزرگ کیرانی چشتی کی زمین تھی جسے ہزاروں کے بزرگ حاجی ناصر علی نے خرید کر وہاں اپنے قبیلے کو آباد کیا،اسی نسبت سے آج بھی یہ علاقہ ’’ناصر آباد‘‘ کہلاتا ہے۔جنرل موسیٰ خان اپنے والد کے ساتھ افغانستان سے یہیںآکر آباد ہوئے،جو شیعہ ہزارہ قبیلے کے سرکردہ فرد کہلائے۔جبکہ سُنی ہزارہ قبیلے میں قاضی فائز عیسیٰ کے دادا قاضی جلال الدین قلاّت ریاست کے وزیراعظم کے عہدے پر متمکن ہوئے۔ہزارہ قبیلے کا المیہ یہ ہے کہ گذشتہ 132سال سے افغانستان اور خطے کے حالات پرسکون ہوتے ہیں اور نہ ہی ان پر مسلط مسلسل عقوبت اور ظلم میں کسی طورکمی آتی ہے۔ان پر مظالم کی کہانی اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی داستان بہت طویل اور دلگداز ہے۔ اس کی کڑیاں لبنان کے تریپولی، شام کے حلب،عراق کے بغداد، افغانستان،ایران اور پاکستان کے بلوچستان تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیئے انہیں علاقائی حالات سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں