فیس بک انسٹنٹ آرٹیکلز سے پاکستانی ماہانہ ہزاروں ڈالرز کماتے ہیں، لیکن غلطیوں کی بنا پر یہ ایپ معطل کردی جاتی ہے، صارفین کو یہ رپورٹ ضرور پڑھنی چاہیے

فیس بک انسٹنٹ آرٹیکلز ایک ایسا فیچر ہے جس سے دنیا بھر کے کئی ملین پبلشرز کو آپنے کانٹینٹس کے ذریعے پیسے کمانے کا ایک موثرپلیٹ فارم مہیاکیا ہے۔پبلشرزاپنے فیس بک آڈینس نیٹ ورک کے ذریعے پر مہینے اربوں ڈالر کمالیتے ہیں۔ درحقیقت فیس بک بھی گوگل کی طرح ایڈورٹائزرز سے ہرسال کئی ارب ڈالر کےاشتہار حاصل کر لیتا ہے جنھیں وہ پبلشرز کے ذریعے اپنے پلیٹ فارم پر لگا کر صارفین تک پہنچاتا ہے۔

پھر ان اشتہارات کی آمدن میں سے ایک خاص شئیر فیس بک اپنے پاس رکھ لیتا ہےجبکہ باقی ماندہ رقم پبلشرز کو دے دی جاتی ہے۔ فیس بک کچھ آسان سی شرائط پرپیجز کو انسٹنٹ آرٹیکلز کےلئے منظور کرلیتا ہے ۔اگر آپ کا پیج ایک ماہ پرانا ہےاگر آپ نے اپنے پیج سے 20ہزار تک ٹریفک جنریٹ کی ہےاگر آپ کے پیج پر کم سے کم 10پوسٹس لگائی گئی ہیں اگر آپ نے اپنے پیج پر کوئی ایسی پوسٹ نہیں لگائی تو فیس بک کی پالیسی کے خلاف ہےتو آپ کا پیج انسٹنٹ آرٹیکل کی اہلیت حاصل کر لیتا ہےجس کے بعد قارئین کو آپ کے کانٹینٹس پر اشتہارات دکھائی دینے لگتے ہیں اور اسی طرح آپ کی آمدن جنریٹ ہونا شروع ہوجاتی ہے۔لیکن کیا کوئی بھی ایڈورٹائزر یہ چاہے گا کہ اس کی کمپنی کا اشتہار ایک ایسے کانٹینٹ کے درمیان دیکھا جا رہا ہے جو کسی بھی وجہ سے نامناسب ہے؟ یقیناً نہیں۔

چنانچہ فیس بک کا مقصد صرف پبلشرز کے ذریعے پیسے کمانا ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ کو برقراررکھنا بھی ہے۔فیس بک پبلشرز کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئےکسی بھی فرد، طبقے ، مذہب ، صنف یا ملک سے متصادم سرگرمی کا ارتکاب کریں ۔اس لئے جب بھی فیس بک کو لگے گاکہ آپ کا فیس بک پیج اس کی پالیسی کے برخلاف کانٹینٹ ڈال رہا ہے، وہ بلاجھجھک انسٹنٹ آرٹیکلز کی ایپ آپ کے پیج سے ہٹادے گا اور آپ کواس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کرکے مطلع بھی کردے گا۔ظاہر ہے پیج کا انسٹنٹ آرٹیکلز کےلئے ڈس ایبل ہوجاناکسی بھی پبلشر کےلئے بہت بڑا جھٹکا ہوتا ہے۔ لیکن کئی لوگ یہ نہیں جان پاتے کہ ان کے پیج پر ایسی کون سی وائلیشن ہوئی جس کے نتیجے میں انسٹنٹ آرٹیکلز کا فیچر ان سے واپس لےلیا گیا ہے۔ایسے ہی لوگوں کےلئے یہ آرٹیکل مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ یوں تو انسٹنٹ آرٹیکلز کا فیچرکسی بھی وجہ سے ڈس ایبل ہوسکتا ہےلیکن اس حوالے سے چند چیدہ چید ہ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔

ایسے فیس بک پیجزجو خطرناک ہتھیاروں،گو لہ بارود، لڑاکا طیاروں اور جنگی مناظر کی تصاویر اور کانٹینٹ استعمال کرتے ہیں، انسٹنٹ آرٹیکلز کا فیچر ان کےلئے ہر گز موزوں نہیں ہے۔ چنانچہ پروڈکشن آرٹیکلز میں ایسے کانٹینٹ از خود ہی ان پبلشڈ نظرآتے ہیں۔ل ڑائی ، م ارپی ٹ، ت شدد، خ و=نریزی ، زخ م وں کے مناظر، یا ل=اشوں کو دکھانے والے کانٹینٹ بھی فیس بک انسٹنٹ آرٹیکلز کےلئے قابل قبول نہیں ہیں۔

ب م دھ =م ا کوں سے متعلق خبروں اور تصاویر کا استعمال بھی فیس بک انسٹنٹ آرٹیکلز کےلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔جن سی زیی ، قل ، ڈک یت ی ، چ وری، ہ ی کنگ ، ہ ر ا س انی ودیگر جرائم کے حوالے سے کانٹینٹ یا تصاویر بھی انسٹنٹ آرٹیکل کے ڈس ایبل ہونےکی وجہ بنتی ہیں۔برہنگی، رومانس ، یا ج نسی جذبات کو ب ھڑکانے والے آرٹیکلز اور امیجز اگرچہ دیکھنے ،پڑھنے والوں کی زیادہ توجہ حاصل کر تے ہیں لیکن انسٹنٹ آرٹیکلز کےلئے ایسے کانٹیٹس اچھے نہیں سمجھے جاتے۔کسی بھی خاص مذہب یا فرقے کے حق میں یا اس کے خلاف ڈالےوالے کانٹینٹ بھی انسٹنٹ آرٹیکلزپر پبلش نہیں ہوتے،اور با ر بار انھیں شائع کرنے سے آپ انسٹنٹ آرٹیکل تک رسائی گنوا بیٹھتے ہیں۔

پیسہ کمانے کے طریقوںپر مبنی آرٹیکلز سے بھی اجتناب برتیں۔ فیس بک اس طرح سے لوگوں کی توجہ حاصل کرنےکی کوشش کو بھی پسند نہیں کرتا۔فیس بک کاپی رائٹ کےحوالےسے ضابطہ کار پر سختی سے کاربند ہے۔ کاپی رائٹ کی حامل تصاویر اور کانٹینٹ ڈالنے پر انسٹنٹ آرٹیکل ڈس ایبل ہوسکتا ہےمبالغہ آرائی کے ذریعے لوگوں کوپوسٹ لنک کھولنے پر اکسانا بھی انسٹنٹ آرٹیکلز کےنقطہ نگاہ سے اچھا نہیں ہے۔اسی طرح کسی بات کو خلاف حقیقت یا بڑھا چڑھا کر بیان کرنا ، یا پوسٹ سے متعلقہ مواد کا کانیٹنٹ میں موجود نہ ہونا بھی فیس بک کے نزدیک پسندیدہ نہیں۔

فیس بک ٹریفک کے غیر قانونی ذرائع انسٹنٹ آرٹیکلز کےلئے بے حد نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ اگر کسی آرٹیکل کےلنک کو فیس بک گروپوں اور کمنٹس سیکشن میں ڈال کر ٹریفک بڑھانے کی کوشش کی جائے یا بذریعہ سافٹ وئیر کلک حاصل کرنے کی کوشش کی جائے توایسے پوسٹ لنکس کو رپورٹ کردیاجاتا ہے۔اور فیس بک ایسے پیجز کو سپیم میں ڈال دیتا ہے۔جس سے انسٹنٹ آرٹیکلز تو ڈس ایبل ہوتاہی ہے۔ پیج کوالٹی کو منفی انداز میں متاثر ہوتی ہےاور اس پر وارننگ کے طور پر پیلا نشان لگ جاتا ہے۔ وارننگ ملنے کے باوجود اگر ایسا کیا جائے تو پیج پر لال نشان لگا دیا جاتا ہے۔ ایسا پیج دوبارہ کبھی مونیٹائز نہیں ہوپاتا۔اور اگر پھر بھی احتیاط نہ کی جائےتو پیج مستقل بنیادوں پر ڈیلیٹ بھی ہوسکتاہے۔ سب سے بڑھ کریہ کہ ایسے فیس بک آئی ڈیز کودوبارہ پبلشنگ کےلئے ڈس الائو کر دیا جاتا ہے۔فیس بک نے انگلش کے علاوہ باقی تمام زبانوں کے حوالے سے بھی ایسا نظام وضع کرلیا ہے کہ کئی متنازعہ الفاظ پر مبنی کانٹینٹس انسٹینٹ آرٹیکلز پر شائع نہیں ہوتے۔ ے نام وغیرہ۔فیس بک ایسے پبلشرز کو ترجیح دیتا ہے جو زیادہ سے زیادہ کرنٹ کام کریں۔اس لئے پیجز پر طویل دورانیےکےلئے شیڈولڈ پوسٹس لگانا بھی انسٹنٹ آرٹیکلز کےلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ ایسے کانٹینٹ جو انسٹنٹ آرٹیکلز کےطور پر پبلش نہیں ہوتے۔ وہ پروڈکشن آرٹیکلز کے ایریا میںان پبلشڈنظر آتے ہیں۔ کیونکہ فیس بک اپنی چھان بین کے ذریعے انھیں خود ان پبلش کرتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اگر فیس بک کو بار بار آرٹیکلز کو ان پبلش ہی کرنا پڑے تو پھر اس کےلئے زیادہ آسان ہے کہ وہ ایسے پیجز کی انسٹنٹ آرٹیکلز تک رسائی ختم کردے۔اگر ہم مندرجہ بالا تمام باتوں کا خیال رکھیں تو فیس بک انسٹنٹ آرٹیکلز کے فیچر کے ڈس ایبل ہونے کا خدشہ بڑی حد تک کم کیاجا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں