چارلس سوبھراج کی زندگی کی کہانی بی بی سی کی زبانی

لاہور (ویب ڈیسک) اپنی پہچان بدلنے میں وہ ماہر تھا، اس لیے اسے پکڑنا آسان نہیں تھا۔ اس شخص نے 70 اور 80 کی دہائیوں میں دنیا کے کئی ممالک کی پولیس کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔یہ وہ دور تھا جب ایشیائی خطے میں مغربی ممالک سے آنے والے ‘ہِپی’ سیاحوں کی خاصی دلچسپی ہوا کرتی تھی۔

نامور خاتون صحافی ثمرہ فاطمہ بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔مہینوں گھر سے دور رہنے والے ایسے ہی بعض ‘ہِپی’ سیاح بدنام زمانہ کلر چارلس سوبھراج نامی شخص کا شکار ہو گئے۔چارلس سوبھراج کی عمر اس وقت تقریباً 76 برس ہے اور وہ ان دنوں سنگین جرائم میں نیپال کے ایک قید خانےمیں ہیں۔ لیکن سوبھراج کو اس انجام تک پہنچانا آسان نہیں تھا۔ اپنی شناخت بدلنے کی غیر معمولی صلاحیت اور نوجوان خواتین کو ہدف بنانے کی فطرت کے سبب دنیا سوبھراج کو ‘دا سرپینٹ’ اور ‘بکنی کِلر’ جیسے ناموں سے بھی پہچاننے لگی تھی۔خیال ہے کہ سوبھراج کو ’بکنی کِلر‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ اس کا شکار خواتین کی ڈیڈ باڈیز اکثر بکنیز میں ملا کرتی تھیں۔ فی الحال نیپال کے قید خانے میں بند سوبھراج پر انڈیا، تھائی لینڈ، نیپال، ترکی اور ایران میں جان لینے کے 20 سے زیادہ الزامات عائد ہوئے لیکن 2004 سے قبل کوئی بھی سوبھراج کو ان جرائم کا مجرم ثابت نہیں کر سکا۔سوبھراج جانتا تھا کہ اسے کن ممالک کی پولیس کے ہاتھ نہیں آنا ہے، کیوں کہ ان ممالک میں یہ جرم ثابت ہونے پر اسے تختہ دار کی سزا دی جا سکتی تھی، مثال کے طور پر تھائی لینڈ میں۔سوبھراج کو پکڑنا اس لیے بھی مشکل تھا کہ وہ اپنی شناخت تبدیل کر کے مختلف ممالک کا سفر کیا کرتا تھا۔ وہ بڑی ہوشیاری سے ان لوگوں کے پاسپورٹ خود اپنی شناخت بدلنے کے لیے استعمال کرتا جنہیں وہ زندگی سے محروم کرتا تھا۔ پاسپورٹ پر تصویر بدلنا

اور فرضی پاسپورٹ تیار کرنا اس کے لیے مشکل نہیں تھا۔ماہرین کے مطابق اس کے جرائم کا طریقہ ہمیشہ ایک جیسا رہا۔ وہ سیاحوں کے درمیان خود کو جواہرات اور سرور آور اشیاء کے ڈیلر کے طور پر پیش کرتا تھا۔یہ سرور آور اشیاء کا استعمال کرنے والے فرانسیسی اور انگریزی بولنے والے سیاحوں سے دوستی کرتا اور پھر انھیں اپنے جال میں پھنسا کر زندگی سے محروم کردیتا ۔جتنا مشکل سوبھراج کو پکڑنا تھا، اتنا ہی مشکل اسے فرار ہونے سے روکنا بھی سمجھا جاتا تھا۔سوبھراج یا تو پولیس کو چکما دے کر قید سے فرار ہو جاتا یا قید کانے کے اہلکاروں کو رشوت دے کر تمام سہولیات وہیں فراہم کرا لیتا۔ انڈین قید خانے میں اس کے پاس ٹی وی، عمدہ کھانا اور سگریٹ جیسی تمام اشیا کی فراہمی وہ اہلکار یقینی بناتے تھے جنہیں مبینہ طور پر سوبھراج نے رشوت دے کر دوست بنایا ہوا تھا۔سوبھراج انڈیا کے علاوہ افغانستان، ایران اور یونان کے قید خانوں سے بھی فرار ہونے میں کامیاب رہا۔سوبھراج نے جرائم کا آغاز 1963 میں ایشیا کے دورے کے دوران کیا تھا۔اسی دوران دلی کے اشوکا ہوٹل میں لوٹ مار کے معاملے میں سوبھراج کو دلی میں پہلی بار گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی سوبھراج قید خانے سے فرار ہونے میں کامیاب رہا تھا۔ہوا کچھ یوں کہ اپینڈکس کے درد کا بہانا کر کے وہ قید خانے کے ہسپتال پہنچا اور وہاں سے بھاگنے میں کامیاب رہا۔اگلی بار 1976 میں جب وہ دوبارہ گرفتار ہوا تو دس برس بعد قید سے بھاگنے کا کہیں زیادہ خطرناک طریقہ اختیار کیا۔سوبھراج نے قید خانے

کے اندر ایک دعوت کا انعقاد کیا۔ اس دعوت میں قیدیوں کے علاوہ اہلکاروں کو بھی مدعو کیا گیا۔دعوت میں کھلائے جانے والے بسکٹ اور انگوروں میں نیند کی دوا ملا دی گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد سوبھراج اور اس کے ساتھ چار مزید قیدیوں کے علاوہ باقی سبھی نڈھال ہو گئے۔اس طرح سوبھراج اور چار قیدی وہاں سے فرار ہو گئے۔ اس دور کے اخباروں کے مطابق سوبھراج کے تکبر کی اس وقت یہ حد تھی کہ قید خانے کے باہر دروازے پر اس نے تصویر بھی کھنچوائی۔سوبھراج الفاظ کا کھیل بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ ریچرڈ نیول کی لکھی سوبھراج کی سوانح حیات میں انھوں نے کہا تھا ‘جب تک میرے پاس لوگوں سے بات کرنے کا موقع ہے، میں انہیں بہلا پھسلا سکتا ہوں۔’بلآخر نیپال میں سنہ 2004 میں سوبھراج کو دسمبر 1975 میں کیے گئے ایک جرم میں قید کی سزا سنائی گئی۔ اگلے چند برسوں میں اس سزا کے خلاف سوبھراج کی دو اپیلیں مسترد ہوئیں۔سنہ 2014 میں نیپال کی ایک عدالت نے سوبھراج کو دسمبر 1975 میں کیے گئے ایک دوسرے جرم میں مزید 20 برس قید کی سزا سنائی جس کے خلاف مجرم نے کوئی اپیل نہیں کی۔ماضی میں شاید ان باتوں پر اتنا غور نہیں کیا جاتا ہو لیکن آج اس بات کو خاصی توجہ دی جاتی ہے کہ کسی کے مجرم بننے میں کیا اس کے حالات کا بھی ہاتھ رہا؟سوبھراج کے معاملے میں اس بارے میں یقینی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ سوبھراج کے والد نے اسے اپنانے سے انکار کر دیا تھا۔سوبھراج کے دل میں اپنے والد کے خلاف بہت غصہ تھا۔ سوبھراج نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا ‘میں آپ کو اس بارے میں افسوس ظاہر کرنے پر مجبور کر دوں گا کہ آپ نے ایک والد ہونے کا فرض ادا نہیں کیا۔’ویتنام کے شہر سائیگان میں 6 اپریل 1944 کو پیدا ہونے والے چارلس سوبھراج کی پرورش فرانس میں ہوئی تھی۔لیکن جرائم کے لیے انھوں نے دنیا کے مختلف ممالک خاص طور پر ایشیائی ممالک کا رخ کیا۔چارلس سوبھراج کی والدہ کا تعلق ویتنام سے تھا اور والد انڈین تھے۔ ان دنوں سائیگان پر جاپان کا قبضہ تھا۔ فرانسیسی کالونی ہونے کے سبب انھیں فرانسیسی شہریت حاصل ہو گئی۔سوبھراج کی زندگی کی کہانی اتنی غیر معمولی ہے کہ جب 1997 میں وہ انڈیا کے ایک قید خانے سے آزاد ہو کر فرانس پہنچے تو فرانس کے ایک اداکار اور پروڈیوسر نے ان سے ان کی زندگی پر فلم اور کتاب کے حقوق مبینہ طور پر ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر میں خرید لیے۔سنہ 2015 میں ریلیز ہونے والی بالی وڈ فلم ‘میں اور چارلز’ میں چارلس سوبھراج کا کردار ادا کرنے والے رندیپ ہوڈا نے دعویٰ کیا تھا کہ امیتابھ بچن کی فلم ‘ڈان’ کا مشہور ڈائیلاگ سوبھراج کی زندگی سے متاثر تھا: ‘ڈان کا انتظار تو 11 ملکوں کی پولیسں کر رہی ہے’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں