کورونا کیا کم تھا کہ اب اس سے بھی خطرناک’’ ڈیزیز ایکس ‘‘ نامی بیماری انسانوں کو ختم کرنے کیلئے حملہ آور ہونے والی ہے، پوری دنیا سے انسان ختم ہو جائیں گے ، یہ کس ملک سے پوری دنیا میں پھیلے گا ، پاکستانیوں کیلئے لرزہ خیز خبر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 1976میں جب ایبولا وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا اس کی شناخت کرنے والے پروفیسر جین جیکوس میومب تمفم نے خوب شہرت پائی تھی۔اب انہی پروفیسر صاحب نے مفروضہ قائم کرتے ہوئے پیشین گوئی کی ہے کہ آنے والے وقت میں نوع انسانی کو ایک اور وائرس کا سامنا کرنا پڑے گا جو کہ کورونا سے زیادہ مہلک بھی ہے اور اس سے جلدی پھیلنے کی استطاعت بھی رکھتا ہے وہ انسانوں کو آناً فاناً اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ ”ڈیزیز ایکس“ نامی یہ بیماری انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے گی اور ہر طرف تہلکہ مچا دے گی۔پروفیسر جین کا کہنا ہے کہ اب انسانوں کو ان گنت وائرسز کا سامنا کرناکے لیے خود کو تیارکر لینا چاہیے۔ان کا کہناتھا کہ افریقہ کے بارشی جنگلات سے اب نیا وائرس

جلد نکلے گااور ہر طرف پھیل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اب ایسی دنیا میں آ چکے ہیں جہاں آئے روز نئے وائرس جنم لیں گے جو کہ انسانیت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائیں گے کہ ان کا وجود ختم ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں آنے والی بیماریاں کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک اور بھیانک ثابت ہو سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق کانگو میں ایک ایسے شخص کی شناخت کی گئی ہے جو کہ انتہائی مہلک اور حیران کن بیماری میں مبتلا ہے جس کی بیماری کی ابھی تک تشخیص ہی نہیں ہو رہی کہ اصل میں اس کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ”ڈیزیز ایکس“دنیا میں پھیل گئی تو اس کی اموات کی شرح ستر فیصد سے زیادہ ہو گی۔ڈبلیو ایچ او کا موقف بھی یہی ہے کہ جب ڈیزیز ایکس پھیلے گی تو ہمارے سوچنے سے قبل ہی وہ دنیا میں پھیل جائے گی اور بڑے پیمانے پر انسانوں کی اموات واقع ہوں گی۔جب پہلی بار اس بیماری کا پتا چلا تھا تو اس مریض کی تشخیص کرنے والا اسی فیصد عملہ موت کے منہ میں چلا گیا تھا۔دیکھتے ہیں کہ انسان اب اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے نئے مہلک وائرس اور بیماریوں سے کیسے نبردآزما ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں