مسافروں کو سعود ی عرب جانے کی اجازت ، پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن شروع ،سعودیہ حکومت نے آنے والے مسافروں پر بڑی شرط عائد کر دی

اعلانریاض (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی )سعودی عرب کی جانب سے بین الاقوامی فلائٹ آپریشن بحال ہونے پر قومی ائر لائن (پی آئی اے) نے سعودی عرب کے لیے پروازیں شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔نجی ٹی وی کے مطابق ترجمان پی آئی اے کے مطابق سعودی عرب کے بین الاقوامی فلائٹ آپریشن کی بحالی کا نوٹیفکیشن سعودی جنرل اتھارٹی برائے سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد آج سے تمام پی آئی اے کی پروازوں پر مسافر سعودی عرب کا سفر کر سکیں گے۔ترجمان کے مطابق پروازوں پر نئی بکنگ اور پرانی بکنگ

فعال کروانے کے لیے مسافر کال سینٹر 786 786 111 یا دفاتر سے فوری رابطہ کرسکتے ہیں۔دوسری جانب سعودی عرب میں کوویڈ 19 کی ایک نئی شکل سامنے آنے کے بعد بیرون ملک آمد ورفت پر عارضی پابندی ختم کرتے ہوئے احتیاطی تدابیرسے اتوار سے فضائی سروس بحال کردی گئی ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ اتوار کو دن 11 بجے سے تمام بین الاقوامی پروازیں بحال کر دی گئیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندری اور بری راستوں سے بھی آمد ورفت کو بحال کر دیا گیا ۔سعودی وزارت داخلہ کے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ مملکت کی حکومت نے متعدد ممالک میں کرونا وائرس کے پھیلا ئوسے متعلق احتیاطی تدابیر کے تحت دو ہفتوں کے لیے مملکت میں آمد ورفت بند کردی گئی تھی۔ یہ پابندی کرونا کی ایک نئی شکل کے سامنے آنے کے بعد 20 دسمبر 2020 کو ایک ہفتے کے لیے لگائی گئی تھی تاہم اسے مزید ایک ہفتے کے لیے بڑھا دیا گیا تھا۔ تین جنوری 2021 کو دن گیارہ بجے سے یہ پابندی اٹھا دی گئی ہے۔سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق برطانیہ، جنوبی افریقا ایسے ممالک جہاں پر کرونا کی نئی شکل سامنے آئی سے آنے والے مسافروں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ نئے وائرس سے متاثرہ ممالک سے کم سے کم 14 دن باہر رہے ہیں۔ اس مدت کی میعاد ختم ہونے کے بعد مسافروں کو’ پی سی آر’ کا ٹیسٹ کرانا ہوگا تاکہ مسافر کے کویڈ 19 کی نئی شکل سے متاثر نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی جا سکے۔ناگزیر حالات اورانسانی بنیادوں پر جن افراد کو مملکت میں آنے کی اجازت دی جائے گی انہیں 14 دن تک قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔تاہم ایسے ممالک جہاں پر کرونا کی نئی شکل سامنے نہیں آئی ہے وہاں سے آنے والے مسافروں کو 7 دن تک احتیاطی تدابیر کے تحت الگ تھلگ رہنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں