ہارون الرشید کے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) 2013ء کے انتخاب سے پہلے دو پہاڑ سی غلطیاں عالی جناب سے سرزد ہوئیں۔ کئی ماہ پارٹی انتخابات میں ضائع کر دیے، جب ایک ایک دن قیمتی تھا۔ جب ہر انتخابی حلقے کو کھوجنا چاہئیے تھا۔ ایک نظامِ کار کے بغیر یہ ممکن نہ تھا اور یہ نظام وہ کبھی وضع نہ کر سکے۔

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ 30اکتوبر2011ء کے فیصلہ کن جلسہ ء عام کے بعد عمران خان کی فتح اظہر من الشمس تھی۔ دو سرکاری سروے ہوئے، جن کا حاصل یہ تھا کہ 90سیٹیں ان کے حصے میں آئیں گی۔ماہرین کی مدد سے ایک سروے ہارون خواجہ نے کیا۔ اس کا حاصل یہ تھا کہ آسانی سے 91سیٹیں جیت لیں گے۔ سب سے قدیم اور بہترین ادارہ گیلپ ہے۔ ہر تین ماہ بعد جو سیاسی موسم کی خبر دیتا ہے۔ 2011ء کے موسمِ خزاں سے 2012ئ کے موسمِ بہار کے اختتام تک تحریکِ انصاف ملک کی مقبول ترین جماعت تھی۔ ان چھ مہینوں میں گیلپ نے کوئی سروے جاری نہ کیا۔ اس لیے کہ ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نون لیگ سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ جھوٹ اور جعل سازی ان کا شعار نہیں۔مگر مصلحت سے گاہے کام لیتے ہیں۔ ایسے میں خاموشی روا رکھتے ہیں اور یہ ان کا حق ہے۔ اس لیے کہ سیاسی سروے سے کوئی آمدن تو ہوتی نہیں۔ یہ ریاضت محض ان کے ذوق کا کرشمہ ہے۔ادارہ اس سے اجاگر تو ہوتا ہے۔ عمران خان کا کمال یہ ہے کہ جیتی جتائی 90سیٹوں کو کمال مہارت سے 34پر پہنچا دیا۔ منیر نیازی کا وہی شعر کج انج وی راہواں اوکھیاں سن، کج گل وچ غماں دا طوق وی سی کج شہر دے لوک وی ظالم سن، کج سانوں مرن دا شوق وی سی پی ٹی آئی کے ٹکٹ بٹ رہے تھے۔ دولت کی ریل پیل تھی۔ سمندر پار پاکستانی دھڑا دھڑ پیسے بھیج رہے تھے۔ پارٹی کے اجلاس اب اسلام آباد کے سب سے مہنگے ہوٹل میں منعقد ہوتے۔

معلوم ہوا کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس برپا ہے۔ کھانے کا وقفہ تھا۔ فوراًبعد اجلاس شروع ہوا تو کن اکھیوں سے لیڈروں کو اشارے کر تے دیکھا۔ کسی ناموزوں نام پر بھی گاہے خاموشی اختیار کر لی جاتی۔ یا کوئی مصلحت کیش اثبات میں اشارہ کرتا۔ سیڑھیاں چڑ ھ رہا تھا تو ایک صاحب نے راستہ روکا۔ تعارف کرایا اور یہ کہا کہ میری مدد کیجیے۔ مظفر گڑھ میں قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے امیدوار تھے۔بوسکی کا کرتا پہنے، وہ ایک روایتی زمیندار تھے اور اس حلقہ ء انتخاب سے کوئی تعلق ان کا نہیں تھا۔ میں نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا اور کہا: خود پہ ظلم کرو اور نہ پارٹی پر۔جاوید ہاشمی اور شاہ محمود، دوسفارشی مگر انہیں میسر تھے۔ٹکٹ اسے دے دیا گیا اور وہ شخص محروم رہا جو پچھلی بار صرف دو سو ووٹوں سے ہارا تھا۔ایک لائق،شائستہ، شگفتہ، ایثار کیش اور صاحبِ وسائل امیدوار۔ عرض کیا کہ ٹکٹ جاری کرنے کا طریق درست نہیں۔ایک صاحب اپنی سیٹ سے اٹھے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ انداز ان کا دوستا نہ تھا مگر ان کے چہرے پہ لکھا تھا: ہمارے کاروبار میں دخل نہ دو۔شاید کسی ضروری کام سے عمران خان باہر نکلے تو ان کا تعاقب کیا۔ پہلو کے کمرے میں جا براجے۔گزارش کی کہ انتخاب میں فتح و شکست کا تمام تر انحصار ٹکٹوں کی تقسیم پر ہے۔ انہوں نے تائید کی لیکن فوراً ہی احساس ہوا کہ وہ بے بس و لاچار ہیں۔ایک گھنے جنگل میں سمت کے احساس سے بے خبر۔ سازشی اور خوشامدی جیت گئے، پی ٹی آئی ہار گئی۔ دو تین دن بعد محترمہ نسیم زہرہ کے پروگرام میں ساری بات کھول کر بیان کر دی۔ فوری تاثر یہ تھا کہ میں ناراض ہوں۔کون کم بخت ناراض تھا۔ کس بدبخت کو ذاتی مفاد عزیز تھا۔افسوس کہ مفاد پرستوں کے ہجوم میں پورا سچ کسی کو گوارا نہ تھا۔ ناکامی سے سبق سیکھنے اور ٹکٹوں کی تقسیم کا کوئی نظام وضع کرنے کی بجائے آخر کار کپتان نے دوسروں پہ انحصار کرنے کا فیصلہ کیا۔ الیکشن وہ جیت گئے مگر ان کی فتح بے داغ نہ تھی۔ یہی بنیادی تضاد ہے۔ اب یہ تضاد ہمیشہ انہیں پریشان کرتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں