پومپئی کے کھنڈرات سے لگ بھگ 2 ہزار سال 2 لاشیں درست حالت میں دریافت

پومپئی (ویب ڈیسک) قدیم رومی سلطنت کا شہر پومپئی دنیا میں عبرت کا مقام سمجھا جاتا ہے جو لگ بھگ 2 ہزار سال قبل آتش فشاں پھٹنے سے تباہ ہوکر اس کی راکھ میں دب گیا تھا۔اب وہاں سیکڑوں سال بعد 2 افراد کی لاشیں دریافت ہوئی ہیں جو لگ بھگ درست حالت میں ہیں۔

79 عیسوی میں یہ شہر کوہ ویسوویوس کے آتش فشاں پھٹنے کے نتیجے میں تباہ ہوا تھا اور اب وہاں ایک دولت مند شخص اور اس کے غلام کی لاشوں کو دریافت کیا گیا۔یہ لاشیں اس شہر کے نواح میں ایک ولا کی کھدائی کے دوران دریافت کی گئیں۔پومپئی آرکیالوجیکل پارک کے ڈائریکٹر ماسیمو اوساننا نے بتایا کہ یہ دریافت حقیقی معنوں میں دنگ کردینے والی ہے۔یہ دونوں لاشیں ایک دوسرے کے قریب موجود تھیں اور ماہرین کے خیال میں یہ آتش فشاں پھٹنے کے فوری بعد بچنے میں کامیاب ہوگئے تھے مگر اگلے دن دوبارہ ہونے والے دھماکے میں مارے گئے۔یہ لاشیں لگ بھگ اسی وجہ سے دریافت ہوئی ہیں جہاں سے 2017 میں 3 گھوڑوں کی باقیات کو دریافت کیا گیا تھا۔ماہرین نے بتایا کہ اس میں سے ایک شخص کی عمر 18 سے 25 سال کے درمیان تھیں اور ریڑھ کی ہڈی میں متعدد نشانات تھے، جس کے باعث لگتا ہے کہ وہ ایک غلام تھا۔دوسرا شخص 30 سے 40 سال کی عمر کا تھا جس کی ہڈیوں کی ساخت مضبوط تھی۔پارک حکام کا کہنا تھا کہ وہ آنے والے مہینوں میں مزید کھدائی کریں گے، جس سے شاید یہ علم ہوسکے کہ یہ شخص کہاں جارہا تھا اور ولا کے کردار کا تعین بھی ہوسکے گا۔اس سے قبل 2 خواتین اور 3 بچوں کی لاشیں اکتوبر 2018 میں اس تباہ شدہ شہر کے ایک اور ولا کے کمرے میں اکٹھی ملی تھیں اور اس سے ایک ہفتے پہلے اسی ولا کی جانچ پڑتال سے انکشاف ہوا تھا کہ آتش فشاں پھٹنے کا واقعہ اگست کی بجائے اکتوبر 70 عیسوی میں ہوا تھا،اسی طرح مئی 2018 میں ایک شخص کی لاش بھی دریافات ہوئی تھی جس کے ساتھ چاندی کے 20 سکے اور 2 تانبے کے سکے ملے تھے، جن کی مالیت آج کے دور میں 500 یورو کے برابر سمجھی جاسکتی ہے۔واضح رہے کہ اس تباہ شدہ شہر کے کھنڈرات سب سے پہلے 16 ویں صدی میں دریافت ہوئے تھے اور پہلی کھدائی 1748 میں شروع ہوئی۔ایک اندازے کے مطابق اس تباہی سے 2 ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں سے ڈیڑھ ہزار کو اب تک دریافت کیا جاچکا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں