اسٹیبلشمنٹ کو آخری مہلت دیتے ہیں نہیں تو ۔۔۔ !!! پشاور جلسے میں مولانا فضل الرحمان آرمی کے خلاف کیا کچھ بولتے رہے ؟ جان کر آپ بھی آگ بگولہ ہو جائیں گے

پشاور(ویب ڈیسک) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر اور سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو حکومت کی پشت پناہی چھوڑنے کی مہلت دیتے ہیں،فوج ہمارا دفاعی ادارہ ہے،احترام کرتے ہیں، لیکن اگر وہ سیاسی ادارہ بننے کی کوشش کرے گا تو پھر تنقید برداشت کرنی ہوگی، پھر کلمہ حق بھی کہا

جائے گا،تنقید بھی کی جائے گی اور نام بھی لیا جائے گا۔انہوں نے پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس کے ساتھ بات کہنی پڑ رہی ہے کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ اپنی دادی کے انتقال کی وجہ سے گفتگو نہیں کرسکیں، میں میاں نوازشریف، شہبازشریف اور ان کے پورے خاندان سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔اس موقعے پر جسٹس سیٹھ وقار ، علامہ خادم رضوی کی وفات پر بھی اظہار تعزیت کرتا ہوں،اللہ رب العزت ان کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسے حالات میں پشاور میں جلسہ کررہے ہیں، جب اس سے پہلے ہم کراچی، کوئٹہ اور گوجرانوالہ میں جلسہ کیا، آج اہل پشاور نے ریفرنڈم ہی کردیا، اور دھاندلی سے آنے والی حکومت کو مسترد کردیا ہے۔ ہم نے پہلے ہی دن اعلان کیا تھا کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اعلان جنگ کردیا ہے، آپ کے جلسوں سے حکمران بوکھلا گئے ہیں۔ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے۔مولانا فضل الرحما ن نے کہا کہ ہم فوج اور ادارے کا احترام کرتے ہیں، وہ ہمارا دفاعی ادارہ ہے، اگر دفاعی ادارہ ہے ہمارے سر آنکھوں پر ہے، لیکن اگر وہ سیاسی ادارہ بننے کی کوشش کرے گا تو پھر تنقید برداشت کرنی ہوگی، پھر مت کہا کرو، ہمارا نام نہ لیا جائے پھر تمہارا نام بھی لیا جائے گا اور تنقیدبھی کی جائے گی۔پھر کلمہ حق بھی کہا جائے گا، آج بھی مہلت دیتے ہیں آپ ان کی پشت پناہی

چھوڑ دیں، آپ کہہ دیں یہ ہماری حکومت نہیں ہے۔اس حکومت کیخلاف ہمارے ساتھ ملکر آواز ملائیں، پھر ہم بھائی بھائی ہیں۔ آپ سیاست میں نہ آئیں دفاع سے کام رکھیں۔آپ دھاندلی کریں وہ جرم نہیں، ہم دھاندلی کے خلاف احتجاج کریں آپ خفا ہوتے ہیں، لیکن اب برداشت کرنا ہوگا، بڑی وضاحت سے کہتا ہوں دوسال میں تم نے پاکستان کی معیشت کر تباہ کردیا ہے، جب معیشت گرتی ہے تو پھر وہ ریاست قائم نہیں رہتی۔جب ہم حکومت چھوڑ رہے تھے تو بجٹ میں کہا تھا کہ ترقی کا تخمینہ 5.5فیصد اور اگلے سال 6.4فیصد ہوجائے گی، لیکن ان کے پہلے سال میں 1.8فیصد پر دوسرے بجٹ میں 0.4پر تخمینہ آگیا ہے، اسٹیٹ بینک نے تین روز پہلے بیان دیا کہ 1951کے بعد پاکستان کا سالانہ 0.4پر آگیا ہے، یعنی اگلے سالوں میں کسی قسم کی کوئی ترقی نہیں ہے، پھر کہتے معیشت کی بہتری کے اشارے مل رہے ہیں۔یہ کس سے اور کہاں سے اشارے مل رہے ہیں؟مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کوئی ملک ہمارے ساتھ تعلقات قائم نہیں کرنا چاہتا، واجپائی پاکستان چل کے آیا، افغانستان پڑوسی ملک تجارت کرنا چاہتا تھا، آج افغانستان مایوس ہوچکا ہے،وہ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔ ایران ہندوستان کی لابی میں چلا گیا ہے، چین کی شہد سے میٹھی اور ہمالیہ سے گہری دوستی تھی، لیکن ہم نے ان کی 70ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو تہس نہس کردیا۔ جس طرح امریکیوں نے ٹرمپ کو مستر د کیا اسی طرح پاکستان میں بھی ٹرمپ کو مسترد کیا جائے گا۔سعودی عرب نے دوستی نبھاتے ہوئے 2ارب دالر دیے لیکن سعودی عرب اپنے پیسے ضائع ہوتے دیکھ رہا ہے،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنی رقم واپس مانگ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں