پی پی پی کی حکومت میں گلگت بلتستان میں سرکاری نوکریاں سیل پر لگی رہیں‘ ، (ن) لیگ کے دور میں ٹھیکوں کی لوٹ سیل جاری رہیں اور پھر بھی ہمیں کہتے ہیں ووٹ کو عزت دو ۔۔۔۔۔گلگت بلتستان کی غیور عوامی نے شیر اور تیر کو کیوں مسترد کیا ؟ عوام کی زبانی اندر کی کہانی

لاہور (ویب ڈیسک) گلگت بلتستان الیکشن 2020 میں کسی ایک پولنگ سٹیشن پر بھی فوج کی ڈیوٹی نہیں تھی۔ نہ ہی کسی پولنگ سٹیشن پر رینجرز کو بھجوایا گیا۔ 1000 سے زیادہ پولیس والے الیکشن ڈیوٹی کے لئے صوبہ سندھ سے بلائے گئے۔ پچھلے 10 سال کی بات کی جائے تو جی بی انتظامیہ،

نامور کالم نگار عبداللہ بابر اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ حکومت کے سارے محکمے، الیکشن کمیشن، آر او اور ہر طرح کا سٹاف، پہلے پانچ سال پی پی پی کے قبضے میں تھا جبکہ آخری پانچ سال کے لئے یہ سارا قانونی، انتظامی، انتخابی اور حکومتی ڈھانچہ مسلم لیگ (ن) کے تحت چلتا رہا۔اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ الیکشن سے پہلے، پری پول کمپین اتنی فیئر اور اتنی ٹرانسپیرنٹ تھی کہ اس کو پچھلے 10 سال تک مسلسل جی بی میں حکمرانی کرنے والی دونوں پارٹیاں ٹی وی کی سکرینوں پر لیڈ کرتی رہیں۔ جی بی کے لوگوں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ برانڈِڈ لانگ کوٹ، مارلن برانڈو جیسے سوٹ اور حلیمہ سلطان والی ٹوپیاں، قیمتی ہیٹ، اووَرکوٹ، چیسٹر، وارمر اور مغرب کے شاہی خاندانوں والی شان و شوکت دیکھی۔ پچھلے 10 سالوں والی دونوں حکمران پارٹیوں نے اَز خود جی بی الیکشن 2020 کو ریفرنڈم قرار دے رکھا تھا۔ ایک کہتا تھا‘ اس الیکشن سے طے ہوجائے گا کہ پاکستان میں سیاست کا مستقبل کون ہوگا۔ لوگ طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ سیاسی فیض کے اس سرچشمے کا قبلہ، تھر اور لاڑکانہ جیسا طرزِ حکمرانی طے شدہ ہے جس میں مہران کے غریب ہاری اور کسان، آرگینک شہد اور ملاوٹ کے بغیر خالص دودھ والی نہروں میں کُھلا نہاتے اور چھلانگیں لگاتے ہیں۔ سیاسی سٹیج پر کسی اور کے لکھے ہوئے سکرپٹ بول کر، اووَر ایکٹنگ کرنے کی حد کرنے والے نے یہاں تک کہہ دیا کہ الیکشن تو میں پہلے ہی جیت چکا ہوں‘ اب 15 نومبر کے دن جی بی کو نیا وزیر اعلیٰ اور وزیر اعلیٰ کو نئی نویلی کابینہ دے کر ہی گھر واپس جائوں گا۔

ٹھٹھہ، مذاق، طنز اور مغلطات سمیت ہر طریقہ اختیار کیا۔ ہِز رائل میجسٹی نے کہا کہ جی بی کے لوگوں نے میرے حق میں ریفرنڈم کررکھا ہے۔ دوسری طرف جاتی امرا کے مفرور سلطان کی بیٹی کی تقریریں تھیں۔ ہَر ہائی نَیس نے فرمایا کہ استور کا یہ علاقہ کتنا خوبصورت ایریا ہے۔ پھر غریبوں کو مخاطب کر کے ننھی منی فرمائش اس طرح کر ڈالی، مجھے رہنے کیلئے یہاں کوئی گھر دو گے؟ پاکستان کے مبینہ طور پر سب سے زیادہ مالی بدعنوان خاندانوں کی بینی فشری خاتوں اور حضرت کی کمپین کا تجزیہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ جی بی کی ساری الیکشن مہم 6 نکات کے گرد سات پھیرے روزانہ لگاتی رہی۔ آئیے ذرا اس میڈیائی الیکشن کو ری وائنڈ کرکے صرف ریفرنس کے لئے پھر سے دیکھ لیں۔پہلا پھیرا: عمران خان اور وفاق‘ بتائیں کہ انہوں نے گلگت بلتستان کے لوگوں کو سڑکیں کیوں نہیں دیں؟ ہسپتال کیوں نہیں دیا؟ ترقی کیوں نہیں دی؟ نوکریاں کیوں نہیں دیں؟ پہلے پھیرے میں اپوزیشن کی انتخابی مہم کو لیڈ کرنے والی جوڑی کے پہلے مہماتی پھیرے کا جواب، ٹی وی کے رپورٹرز نے آن سائٹ رپورٹنگ کے ذریعے جی بی کے لوگوں سے ڈائریکٹ حاصل کر لیا۔ پی پی پی کی حکومت کے بارے میں عوام نے کہا کہ اس دورِ حکومت میں جی بی کی سرکاری نوکریاں فار سیل لگی رہیں‘ ہر نوکری کا کم از کم ریٹ 6 لاکھ روپے سکہ رائج الوقت پاکستانی تھا۔ پی ایم ایل (ن) والوں کے بارے میں جواب آیا کہ وہ ٹھیکے پہ ٹھیکہ بیچتے رہے۔ کمیشن، کِک بیکس اور اپنے کَٹ کیلئے۔ اس لئے اب ٹھپے پہ ٹھپہ ان دونوں کے انتخابی نشانوں پر نہیں لگے گا۔

دوسرا پھیرا: مودی بیانیہ کو عزت دو والا تھا جس میں ہَر رائل ہائی نَیس نے یہ شاہی فرمان صادر کردیا کہ نواز شریف کا بیانیہ گلگت بلتستان کے گھر گھر میں پہنچ چکا ہے۔ جی بی الیکشن 2020 مسلم لیگ (ن) کا ہے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر مریم نواز صاحبہ لینڈ سلائیڈ وکٹری کا کلیم ڈالتی رہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے جی بی میں صرف چند سیٹوں پر انتخابی میدان میں امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ بغیر کسی ہوم ورک کے الیکشن ریمپ کی واک پر شیر کی دلیری پہ کوئی ہنسنا چاہے تو ہنس لے، اور رونا چاہے تو شیر کی لندن سے واپسی کے انتظار میں عمر بھر روتا رہے۔تیسرا پھیرا: فوج الیکشن میں مداخلت کرتی ہے، اسے پولنگ سٹیشنوں سے دُور رکھا جائے، پر مبنی تھا؛ چنانچہ الیکشن کمیشن نے ایسا ہی کیا۔ جی بی کا الیکشن 100 فیصد سوِل ایڈمنسٹریشن اور سوِل سرونٹس نے کروایا۔ اسی لئے چیف الیکشن کمشنر نے ہارنے والی دونوں پارٹیوں کو یہ کہہ کر لاجواب کر دیا، بتائو کون سا حلقہ کھولنا ہے؟ جواب آیا، اب ہم اسلام آباد جا رہے ہیں۔ اب ہم اسلام آباد پر دھاوا بولیں گے۔چوتھا پھیرا:مولانا صاحب نے لگایا یا پھر جی بی کے ووٹرز نے مولانا کو لگایا۔ ان کی ساری پارٹی جی بی کے الیکشن میں وائٹ واش ہو گئی۔ فرماتے ہیں، میں الیکشن کے نتائج مسترد کرتا ہوں۔ ظاہر ہے، ایسا الیکشن جس میں علی امین گنڈاپور شامل ہو، اُس میں حضرت صاحب کے لئے الیکشن مسترد کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔پانچواں پھیرا جی بی کے سابق وزیر اعلیٰ

کی پریس کانفرنس پر تمام ہوا۔ موصوف نے کہا، سندھ حکومت نے جی بی الیکشن میں کروڑوں روپے جھونک دیئے۔ ساتھ ہی انہوں نے پی ڈی ایم کے قُل بھی پڑھ ڈالے۔ بولے: سندھ حکومت کو نواز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔چھٹا پھیرا پی ڈی ایم کے مشترکہ چارٹر پر لگا‘ جس کے بارے میں پہلے 26 نکات لکھ کر معاہدے کی شکل میں پریس کو دیئے گئے‘ جن میں ایک دوسرے سے بے وفائی نہ کرنے پہ پی ڈی ایم کو ایک انقلابی انتخابی ایجنڈے پر چلانے کی خوش خبریاں سنائی گئیں۔ اسی دوران جی بی کا الیکشن زور پکڑ گیا۔پی ڈی ایم کے سارے لیڈروں نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی، اپنے ووٹروں کی علیحدہ علیحدہ محفل سجائی۔ کسی نے مودی کے بیانیہ کی غزل گائی۔ کسی نے اس بیانیہ پر انگلی اُٹھائی، اور یوں مختلف خواب، خیال اور ایجنڈا رکھنے والے اتحادی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے رہے۔ اس دوران پی ڈی ایم کے حامی ہر شام کو جی بی کی حکومت بلاول کے، اور قیادت مریم کے سپرد کرکے سوئے۔ جب سے جی بی کے لوگوں نے اس گروہ کو ووٹوں کے ذریعے عزت دی ہے۔ تب سے یہ غیر جانب دار پولیٹیکل کمنٹیٹر، دو طرح کے گرم تووں پر اُچھلتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ جی بی کے لوگ ہمیشہ وفاق والی حکومت کے حق میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ دوسرا، اپنی کُھلی غیر جانب داری کو ثابت کرنے کے لئے فاضل اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کر آئے ہیں۔ جی ہاں! لبرل ازم، جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لئے۔ یہ پٹیشن کہتی ہے، عدالتی سزا یافتہ، تا حیات نا اہل مفرور کو مے فیئر میں بیٹھ کر پاکستان میں ٹی وی کے ذریعے خطاب کرنے کی عدالتی ڈگری جاری کی جائے۔20 کروڑ لوگوں میں ہر ایک کا اپنا اپنا ووٹ ہے۔ اب دو ناں عزت جی بی کے ووٹ کو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں