دبئی سے ابوظبی جاتے ہوئے پولیس والوں نے پاکستانیوں کو گاڑیوں سے اتار کر لائن میں کھڑا کر دیا گیا

دبئی (ویب ڈیسک )متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جانے لگا، اکیس سالوں سے یواے ای میں رہنےوالے پاکستانی نے آنکھوں دیکھا حال بتادیا، پاکستانی نے بتایا کہ انیس سو ننانوے میں پہلی دفعہ مشرق وسطیٰ آیا تھا، دبئی، ابوظہبی سمیت دیگر شہروں میں اکیس سالوں سے رہاہوں، مجھے نسل پرستی یا پاکستان مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔کل رات کو بہت ہی عجیب تجربہ ہوا، ہم لوگوں کا ابوظبی میں چکن پروسیسنگ کا پلانٹ ہے تو اگر دبئی سے ابوظبی جانا ہے

تو کورونا ٹیسٹ کروانا ہے، تو اس کے نتائج آنے کے بعد آپ ابوظہبی چلے جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ میں اور میرا ایک اور پاکستانی دوست ہم دونوں شام کے وقت پہنچے تو ہماری ایمریڈز آئی ڈی دیکھیں، پھر کہا کہ ریگستان میں سائیڈ پر کھڑے ہوجائیں پولیس آپکی آئی ڈی انسپکیٹ کرے گی، کچھ گاڑیوں کو وہ چھوڑ رہے تھے ہمیں کہا سائیڈ پر ہوجاؤ، ہم سائیڈ پر گئےتو وہاں پہلے سے پچاس ساٹھ گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں،اور پولیس والے کام کے بجائے آرام کررہے تھے

جبکہ پچاس ساٹھ ستر لوگ لائن میں کھڑے تھے، پھر پولیس والے آئے اور کہا کہ پاکستانیوں کے علاوہ بھارتی، نیپالی، بلوچی سب چلے جائیں، اور پاکستانی سب کھڑے رہیں اور جس گاڑی میں عربی پاکستانی بھارتی سب ساتھ تھے ان میں سے صرف پاکستانیوں کو اتروا کر باقی دوسرے ممالک کے لوگوں کو جانے کا کہہ دیا۔پاکستانی نے بتایا کہ روکے جانے والوں میں تین پاکستانی فیملیز بھی تھیں جن کے ساتھ بچے بھی تھے، انہیں کہا گیا کہ آپ میں سے کوئی بھی گاڑی میں نہیں بیٹھ سکتا، خاندان کے ایک ایک فرد کو لائن میں کھڑا ہونا ہوگا، جو لائن میں کھڑا ہوگا اسی کی انسپیکشن ہوگی، جبکہ ایک فیملی کے ساتھ بزرگ بھی تھی۔

ایک پٹھان ڈرائیور نے شور کیا تو کہا نہیں کھڑے ہونا تو جاؤ عمران خان کو کہو۔۔ جس پر پٹھان ڈرائیور نےغصہ کیا اور پی ٹی آئی زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیئے، لوگوں نے ویڈیو بنائی تو سب کے موبائل فونز چھین لئے اور کہا عمران خان سے جاکر اپنا فون واپس لو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں