’’یہ میچ کرانے اور پیسہ بنانے والے لوگ مجھے آسانی سے نہیں چھوڑیں گے کیوںکہ۔۔‘‘ یو ایف سی کے سابق مسلمان فائٹر خبیب نے پہلی بار لب کشائی کردی

لاہور (ویب ڈیسک) مسلمان فائٹر خبیب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ میں نے رنگ کو خیر باد کہہ دیا ہے اور ایم ایم اے سے بھی علیحدگی اختیار کر لی ہے مگر یہ پیسا اور شہرت سمیٹنے کا ایسا خمار ہے جو بار بار آپ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔یہ میچ کرانے

اور پیسا بنانے والے لوگ بھی مجھے آسانی سے نہیں چھوڑیں گے ا ور میرے ساتھ رابطہ کرتے رہتے ہیں اور کرتے بھی رہیں گے یہاں تک کہ جب تک وہ مکمل مایوس نہیں ہو جاتے۔خبیب کا کہنا تھا کی میں اس حوالے سے کلیئر ہوں اور اپنے فیصلے پر نظرثانی بھی نہیں کرنا چاہتا کہ میں رنگ میں کبھی واپس جاﺅں گا۔بہت ہی کم عمری میں ورلڈ ریکارڈ بنانے کے بعد یہ مسلمان فائٹر دنیا کا چیمپئن بننے کے بعد رنگ کی دنیا کو خدا حافظ کہہ کر اپنی دنیا میں واپس چلا گیا۔جب گزشتہ دنوں اس نے اپنی آخری فائٹ کامیابی سے جیتی اور رنگ میں خدا کے حضور بسجود ہوا تھا تو تبھی رنگ میں کھڑے ہوئے ہی اپنے اس کیرئر کو گڈ بائے کہہ دیا تھا۔نوجوان باکسر کا کہنا تھا کہ اس رنگ نے میرے باپ کی جان لے لی اور میری ماں نہیں چاہتی کہ مجھے کوئی گزند پہنچے لہٰذا میں فائٹنگ کی اس دنیا کو خدا حافظ کہتا ہوں۔فائٹنگ کی دنیا میں میرا جو مقصد یا اہداف تھا وہ میں حاصل کر چکا ہوں لہٰذا اب جب کوئی خواب،تشنگی یا کوئی بڑا مقصد پیش نظر نہیں ہے تو پھر میں اکھاڑے میں کیونکر جاﺅں۔انہوں نے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ میں ابھی نوجوان ہوں اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہا ہوں۔جب تعلیم مکمل ہو گی تو میں سوچوں گا کہ پروفیشنل لائف میں مجھے کیا کرنا ہے تاہم ابھی تک میں نے یہ سوچا ہے کہ میں بھیڑ بکری اور گائے پالوں گااور اس کا بزنس چلاﺅں گا۔اس کے علاوہ میں اپنے گاﺅں کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کچھ کروں گا۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں سیاست میں آنے سے متعلق ذرا بھی دلچسپی نہیں رکھتااور نہ ہی شاید کبھی ایسا کچھ کر پاﺅں تاہم اپنے لوگوں کے لیے کچھ ضرور کرنا چاہتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں