کیا ہونے جا رہا ہے؟ رؤف کلاسرا کے تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کے لیے سیاحت کے لیے ویزہ اور ورک پرمٹ دونوں روک دیے ہیں، سمجھا یہی جا رہا ہے کہ اس کے پیچھے بھی سعودی عرب کا ہاتھ ہے۔اپنے یوٹیوبب چینل پر جاری ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ سرکاری طور پر یہی کہا جا رہا ہے

کہ یو اے ای نے کورونا کے باعث 12 ممالک کے ویزوں پر پابندی عائد کی ہے تاہم معاملہ اتنا سادہ نظر نہیں آ رہا کیونکہ بھارت میں پاکستان سے کہیں زیادہ کورونا پھیلا ہوا ہے لیکن ان کے ورک پرمٹ نہیں روکے گئے۔ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان پر کوئی دباؤ ڈالنا ہو یا ناراضی کا اظہار کرنا ہو تو وہ خود براہ راست ایسا نہیں کرتا بلکہ یو اے ای کو سامنے کر دیتا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ جب پاکستان نے سعودی عرب کے کہنے پر یمن میں فوجیں بھیجنے سے انکار کر دیا تھا تو اس وقت بھی سب سے سخت بیان یواے ای کے ایک وزیر کا آیا تھا جس کا اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے جواب دیا تھا۔رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اس وقت کئی حلقے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ایران، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نفیس توازن قائم رکھا ہوا تھا جسے عمران خان شاید اپنی ناتجربہ کاری کے باعث برقرار نہیں رکھ سکے۔ان کا کہنا ہے کہ ترکی میں جمال خشوگی کے قتل کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان اور طیب اردوان کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے، عمران خان کا چونکہ زیادہ جھکاؤ طیب اردوان کی طرف ہے تو اس وجہ سے پاکستان کے تعلقات بھی سعودی عرب سے متاثر ہوئے۔انہوں نے کہا کہ

پاکستانی کابینہ میں بعض ایسے وزراء بھی بیٹھے ہیں جن پر سعودی عرب کا اعتراض ہے کیونکہ انہیں ایران نواز سمجھا جاتا ہے، یہ عمران خان اور سعودی ولی عہد کے درمیان دوری پیدا ہونے کی دوسری وجہ بنی۔ان کا کہنا ہے کہ عمران خان سعودی عرب کے دورے پر زلفی بخاری کو ساتھ لے گئے جنہیں ایرانی کیمپ کا حصہ سمجھا جاتا ہے، اس بات کو بھی سعودی عرب نے پسند نہیں کیا۔رؤف کلاسرا کے مطابق تعلقات میں خرابی شروع ہو چکی تھی جب شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں مشہور انٹرویو دیا اور اس کے بعد معاملات مزید بگاڑ کی طرف گئے۔انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اور یو اے ای میں رہنے والے پاکستانی 9 ارب ڈالرز سالانہ کی ترسیلات زر پاکستان بھیجتے ہیں، اگر ان پاکستانیوں کو وہاں سے واپس بھیج دیا جائے تو ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہمیں ایسے اقدام کرنے چاہئیں تھے جن سے تعلقات کا بگاڑ رک جاتا اور ان میں بہتری شروع ہو جاتی مگر پاکستان نے ایرانی وزیر خارجہ کو دورے کی دعوت دے کر مزید خرابی پیدا کر دی۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے ساتھ ہوئی اور انہیں بھرپور پروٹوکول دیا گیا۔ اس دورے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔انہوں نے کہا کہ اب معاملات میں خرابی اسقدر بڑھ چکی ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گا، اگر خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے تو ہماری معیشت بھی بری طرح متاثر ہو گی اور ملک کے اندر بیروزگاری بھی بڑھے گی۔رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس وقت وزیراعظم عمران خان کو اپنی انا ایک طرف رکھ کر ملک کا فائدہ دیکھنا چاہیئے کیونکہ ہر ملک کی خارجہ پالیسی کی بنیاد مفادات پر ہوتی ہے اور سعودی عرب کے ساتھ ہمارے بہت سے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں