لوٹ مار وہ بھی دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں سے : مانسہرہ میں شریف خاندان کا رائیونڈ سے بھی بڑا محل تعمیر کیے جانے کا انکشاف ۔۔۔ پوری قوم دنگ رہ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم خان سواتی نے انکشاف کیا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر رائے ونڈ محل سے بڑا محل تعمیر کروا رہے ہیں، اس بات کا انکشاف انہوں نے معروف صحافی عدیل وڑائچ کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر سے متعلق ایک

ایک چیز سامنے آچکی ہے، وہ مانسہرہ میں غازی کوٹ کے ٹاپ پر جاتی امراء جیسا محل تعمیر کروارہے ہیں۔تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی نے کہا کہ میرے حلقے میں ہر شخص کیپٹن (ر) صفدر کو ذاتی طور پر جانتا ہے،انہوں نے دوران انٹرویو کہاکہ میں نے پچھلے دنوں باقاعدہ طور پر کیپٹن (ر) صفدر کی ایک ایک چیز نکالی ہے، میں رکنے والا نہیں ہوں،انہوں نے تمام اداروں سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں۔انہوں نے کہا میں ثابت کرسکتا ہوں کہ کون کون سی بے نامی جائیداد کیپٹن (ر)صفدر کی ملکیت ہے، محل کی تعمیر پر انہوں نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدربتائیں اتنے پیسے کہاں سے آئے؟ اعظم سواتی نے کہا کہ میرے پاس ایک ایک ٹھیکیدار کی تفصیلات موجود ہیں،میں اگر غلط ہوں تو وہ میرے خلاف عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کریں۔انہوں نے کہا کہ میں کیپٹن (ر) صفدر کے معاملے کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہتا ہوں،انہوں نے کہا کہ لیگی رہنما کیپٹن (ر) صفدر نے میرے مانسہرہ کو میرے پاکستان کو لوٹا ہے، ان کو حلال کا رزق نصیب نہیں ہے، تحریک انصاف کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ ہم ملک کا لوٹا ہوا مال ان کے پیٹ سے نکالیں گے۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق سابق وزیرعظم میاں نواز شریف کو کورونا وائرس کے باعث برطانیہ میں مزید 6 ماہ قیام کی اجازت مل گئی ہے ۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے نواز شریف کو برطانیہ میں 6 ماہ کی توسیع مل گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی حکومت کے پاس ہماری باقاعدہ تحریر جاچکی ہے، برطانیہ کو لکھے گئے خط میں برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف کا ویزا ختم کردیں۔لیکن فی الحال اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے ۔ نواز شریف کے پاس اب دو تین آپشنز ہیں جس پر وہ برطانیہ میں رہ سکتے ہیں، وہ بیماری کا کہہ کر برطانیہ میں رہ سکتے ہیں لیکن بیماری کا بتانا ہوگا، انہیں بتانا ہوگا کس علاج کے لیے آئے اور کیا پاکستان میں علاج ممکن نہیں تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں