ایسی قوم میں تبدیلی کیا خاک آئے گی ۔۔؟؟برسوں قبل بینظیر بھٹو میانوالی کی ایک معتبر شخصیت کو وزیراعلیٰ پنجاب بنوانا چاہتی تھیں ، پھر کون انکے نیک ارادے میں رکاوٹ بنا تھا ؟ بھولا بسرا واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) یہاں کثیر تعداد میں ایماندار ٹیکسی ڈرائیور‘ فرض شناس پولیس اہلکار اور حلال خوردکاندار موجود ہیں جو اگر ع دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں یہ مگر حقیقت ہے کہ زمین کے نمک ایسے لوگوں کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی ہوتی ہے نہ سماجی اور سیاسی شعبے میں پذیرائی‘

نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں لُچا سب توں اُچاّ ہے اور یہی نوسر باز‘ لُچے لفنگے‘ وحشی درندے سربلند و سرفراز ؎ جہل خرد نے دن یہ دکھائے گھٹ گئے ‘انساں بڑھ گئے سائے سعدیہ قریشی نے اپنے خوبصورت کالم میں میانوالی قریشیاں کے مخدوم الطاف احمد کی طبعی شرافت‘ خاندانی نجابت اور بلند کرداری کا ایک واقعہ درج کیا ہے مگر اسی شریف النفس مخدوم الطاف احمد کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنانا چاہا تو مسلم لیگ کے دونوں دھڑوں اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے عارف نکئی پر اکتفا کر لیا۔ وہی عارف نکئی جس نے محترمہ بے نظیر بھٹو سے کہا تھا‘ ’’اخبار نویسوں کا معاملہ آپ مجھ پر چھوڑیں میں انہیں ہزار ہزار دو دو ہزار لفافے دے کر آپ کی حمائت پر آمادہ کر لوں گا‘‘۔بڑے بڑے پھنے خاں صحافیوں اور مالکان اخبارات کو میں نے اپنی ان گناہگار آنکھوں سے عارف نکئی کی چاپلوسی کرتے اور دیرینہ تعلقات کی یاددہانی کراتے سنا‘مخدوم الطاف مگر سیاستدانوں کو قبول تھے نہ ارکان اسمبلی کو اور نہ ہی معاشرے کی ہر برائی کا ذمہ دار حکمرانوں کو قرار دینے والے اخبار نویسوں کو۔ٹیکسی ڈرائیور قمر الزمان‘ اے ایس آئی محمد بخش برڑہ جیسوں کی عزت افزائی سے ہی معاشرے میں نیکی‘ ایمانداری‘ فرض شناسی اور ایثار و قربانی کا جذبہ پروان چڑھ سکتا ہے‘ نوجوان نسل کی کردار سازی کے لئے ایسے ہی گمنام مجاہدین کو قومی ہیرو کا درجہ دینا ضروری ہے‘ مگر یہ مشکل کام کرے کون؟پرلے درجے کے جعلساز‘ نوسر باز‘ لٹیرے‘ ‘ دھن دولت کے پجاری اور مفاد پرستی‘اقربا پروری کے موذی مرض میں مبتلا مداری ہمارے سروں پر سوار‘ دل و دماغ پر قابض ہیں اور سیاسی کارکن‘ صحافی‘ تجزیہ کار‘ اینکر‘ دانشور ہر ایک کی زبان پر انہی کی مدح سرائی‘ تبدیلی کیا خاک آئیگی۔؟

اپنا تبصرہ بھیجیں