افسوسناک خبر۔!! بیگم بلقیس ایدھی بیہوش ہوگئیں۔۔۔ کل ایسا کیا واقعہ پیش آیا کہ ایدھی سنٹر پر چھاپہ پڑگیا؟ ایدھی ورکرز کو گرفتار کیے جانے کا انکشاف

کراچی (ویب ڈیسک) سینئیر صحافی و تجزیہ کار مبشر لقمان نے ایدھی سینٹر کے حوالے سے حال ہی میں کچھ انکشافات کیے اور بتایا کہ ایدھی سینٹر خطرے میں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق صحافی مبشر لقمان نے کہا کہ ایدھی سینٹرز پر پولیس کے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جن بچیوں کی شادیاں کروائیں ان کو

گھروں میں جا کر تفصیلات مانگی جا رہی ہیں، بچوں کے والدین کے پاس جایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بلقیس ایدھی سے دریافت کیا کہ اطلاع ملی کی ایدھی سنٹر پر پولیس کے اٹیک ہو رہے ہیں کیا یہ سچ ہے؟ جس پر بلقیس ایدھی نے جواب دیا کہ ساٹھ سال سے حکومت کی اجازت سے کام کر رہے تھے، میاں بیوی دونوں، اگر لڑکیوں کی شادی کی ان کی اپنی مرضی سے تو ان کو بلا بلا کر ،ایف آئی اے والوں نے بلایا، پتہ نہیں کیوں بلاتے ہیں، ایدھی صاحب اور میں نے یہ کام اس لیے نہیں کیا کہ اس نتیجے پر پہنچا دیں گے، جن کی شادیاں کروائیں تھیں ان کے بچوں کی بھی شادیاں ہو گئی ہیں، 15 15 لڑکیوں کو ایف آئی اے والے بلاتے ہیں پتہ نہیں کیا پوچھتے ہیں، لوگ ڈر رہے ہیں۔ مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے پتہ چلا کہ آپ بے ہوش ہو گئی تھیں کچھ دن پہلے جس پر بلقیس ایدھی کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے میں بے ہوش ہو گئی تھی، حوصلہ ختم ہو گیا، ہاتھ پاؤں کانپ رہے ہیں،پریشانی ہی پریشانی ہے، دن میں دس بارہ فون آ رہے ہیں کہ ہائیکورٹ آ جاؤ، بچیوں کی شادیاں ہو گئیں، پتہ نہیں کیوں بلاتے ہیں، حکومت کی اجازت سے یہ کام شروع کیا تھا ساٹھ سال ہو گئے ،دو چار دن کی کوئی بات نہیں۔ مبشر لقمان نے ایدھی سینٹرز پر اس قسم کی کارروائیوں سے متعلق مزید کہا کہ مجھے نہیں پتہ کیا ہو رہا ہے، پاکستان میں پھیلے ایدھی سنٹر پر چھاپے پڑ رہے ہیں، کئی سنٹر کو بند کیا جا چکا ہے، بچے لینے والوں کے گھروں پر چھاپے پڑ رہے ہیں، جن بچیوں کی شادیاں ہوئیں ان کو کہا جا رہا ہے کہ تھانوں میں آئیں، کوئی عجیب سا کورٹ کیس ہے کہ سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹریشن ہے یا نہیں، مجھے اتنا پتہ ہے کہ اگر ایدھی ویلفیر کو سوشل ویلفیر سے رجسٹر کروانا ہے تو پھر اس کا اللہ حافظ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں