قرآن میں جس مسجداقصیٰ کاذکرہے وہ توسعودی عرب میں ہے یروشلم میں نہیں سعودی عرب نےمسجداقصیٰ کاسوداکردیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سعودی عرب کے ایک وکیل نے دعویٰ کیاہے کہ جس مسجداقصیٰ کاذکرقرآن کریم میں ہے وہ یروشلم میں نہیں بلکہ سعودی عرب میں ہے۔تفصیلات کے مطابق سعودی وکیل اسامہ یمانی نے کہاکہ مسجداقصیٰ یروشلم میں نہیں بلکہ سعودی عرب کے علاقے الجرانہ جوکہ مکہ مکرمہ اورطائف کے قریب ہے اس میں واقع ہے۔مسجداقصیٰ حقیقت میں اس جگہ تھی اوراب اس جگہ کوبھلادیاگیاہے۔سعودی حکومت نے امام کعبہ کے ذریعے سب سے پہلے راہ

ہموارکی تھی کہ یہودیوں کے ساتھ تجارت اوران سے تعلقات قائم کرنا جائزہے ۔رسول اللہ ؐ نے اپنے زمانے میں یہودیوں سے میل جول رکھا۔انہوں نے اس مقصد کے لیے احادیث کاسہارالیا۔سعودی اخبارعکاظ میں ایک اسامہ یمنی کاایک مضمون شائع ہواجس میں اس نے دعویٰ کیاکہ جس مسجداقصیٰ کاذکرقرآن کریم میں ہے وہ مکہ کے نزدیک ایک علاقے میں واقع ہے یروشلم میں نہیں واضح رہے کہ اس اخبارمیں سعودی حکومت کی مرضی کے بغیرکوئی بھی آرٹیکل شائع نہیں ہوتا۔انہوں نے کہاکہ یروشلم میں واقع مسجدکومسجداقصیٰ کادرجہ صرف سیاسی بنیادوں پردیاگیا۔تاریخ اوراسلام کااس سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہاکہ حضرت محمدؐ کبھی یروشلم آئے ہی نہیں وہ البراق کے ذریعے آسمانوں پرچلے گئے۔ہم جوکہتے ہیں کہ مسجداقصیٰ یروشلم میں موجودہے یہ ایک غلط بات ہے۔اورہمیں اس سے دستبردارہوجاناچاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں