آج کی بڑی بریکنگ نیوز: شہباز شریف خاندان کے ملازم کی کمپنی میں جمع ہونیوالے کروڑوں روپے کی تفصیلات سامنے آ گئیں ، تفصیلا ت آپ کو دنگ کرڈالیں گی

لاہور(ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) نے شہباز شریف خاندان کے ملازم کی کمپنی میں جمع ہونیوالے کروڑوں روپے کی فنڈنگ کی تفصیلات جاری کر دیں۔نیب دستاویزات کے مطابق ملازم کی کمپنی میں 51 کروڑ 52 لاکھ 71 ہزار کی ترسیلات پارٹی فنڈز سمیت دیگر کی مد میں ہوئیں۔ نیب دستاویزات

کے مطابق شریف فیملی کی بے نامی کمپنی کے اکاونٹ میں ایم پی ایز، ہاوسنگ سوسائٹی مالکان اور کاروباری افراد نے رقوم جمع کرائیں۔نیب دستاویزات کے مطابق رکن صوبائی اسمبلی سیف الملوک کھوکھر نے 75 لاکھ، ارشد جاوید نے ایک کروڑ، نواب زادہ طاہر الملک نے ایک کروڑ 50 لاکھ پارٹی فنڈ دیا، جو بے نامی اکاونٹ میں جمع ہوئے۔نیب دستاویزات کے مطابق ہاوسنگ سوسائٹی کے مالک محمد مشتاق نے پارٹی فنڈ کے نام پر ایک کروڑ 10 لاکھ، علی اختر نے ایک کروڑ 50 لاکھ، نجی موٹرز کمپنی کے مالک اقبال ساجد نے 25 لاکھ کا چیک جمع کروایا.نیب دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ان افراد نے تحریری بیان میں کہا کہ بے نامی اکاونٹ کا علم نہیں، فنڈز حمزہ شہباز، شہباز شریف کی ہدایت پر پارٹی کو دیے۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر شہبازشریف اور دیگر شریک ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی تھی۔احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے شہبازشریف کی فرد جرم عائد نہ کرنے کی استدعا مسترد کردی تھی۔ حمزہ شہباز اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے کمرہ عدالت میں صحت جرم سے انکار کیا تھا۔احتساب عدالت کے جج نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ کیس التوا کا شکار ہے، دوسری طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ آج فرد جرم عائد نہ کی جائے۔عدالت نے شہباز شریف کو فرد جرم پر درج سوالوں کے جواب دینے کی ہدایت بھی کی تھی۔ جج نے کہا تھا آپ یہ سوالنامہ بیشک لے جائیں سکون سے بیٹھ کر اپنا جواب دے دیجیے گا۔جج نے کہا تھا آپ کے انکار کی کاپی جمع کروا دیں تاکہ معمول کی کارروائی کا آغاز ہو۔ احتساب عدالت لاہور نے کیس کی سماعت 26 نومبر تک ملتوی کردی ہے۔ئاد رہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں جبکہ شہبازشریف اور ان کے دیگر اہلخانہ کے خلاف نیب تمام قانونی تقاضے پورے کر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں