عمران خان کی پالیسیاں کامیاب! پاکستانی معیشت کا پہیہ چل نکلا، بنگلہ دیش اور بھارت کو ملنے والے آرڈرز بھی پاکستان کو ملنے لگے، پوری دُنیا کپتان کو مان گئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم کی ملکی انڈسٹری کے فروغ کے لیے پالیسیاں کامیاب ہو گئیں۔ بنگلہ دیش اور بھارت کو ملنے والے آرڈرز پاکستان کو ملنا شروع ہو گئے ۔تفصیلات کے مطابق ملکی معیشت کے حوالے سے زبردست خوشخبری سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم کی

ملکی انڈسٹری کے فروغ کے لیے منصوبہ بندی کام کر گئی۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ افراد حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں۔ایکسپورٹس آرڈرز میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔بنگلہ دیش اور بھارت کو ملنے والے آردڑز ڈائیورٹ ہونا شروع ہو گئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ جو آرڈرز پہلے بنگلہ دیش اور بھارت کو ملتے تھے اب وہ آدڑز پاکستان کو ملنا شروع ہو گئے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ٹیکسٹائل انڈسٹری سے کیے گئے وعدے پورے کر دئیے۔سستی بجلی کے اعلان نے ایکسپوٹرز کا اعتماد مزید بڑھایا۔جب کہ وفاقی مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس 792 ملین سرپلس ہوگیا ہے، پہلے دوسالوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20سے کم کرکے 3ارب ڈالر پر لائے، اب روپیہ مستحکم ہوچکا ہے، 30 جون تااکتوبرتک 4ماہ میں کوئی قرض نہیں لیا، ماضی کے قرضوں پر 5ہزار ارب سود دیا،حکومتی اقدامات سے معیشت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے وزیراطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں بتانا چاہتاہوں کہ ہماری معیشت کہاں کھڑی ہے، معیشت میں بہتری کے فوائد کس طرح عوام تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں، جب حکومت آئی تو معاشی بدحالی تھی، جس کے لیے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، آئی ایم ایف کے اس وقت ہی جایا جاتا ہے جب معیشت میں بحرانی کیفیت ہو۔ٹیکسز میں 17فیصد اضافہ ہوا، آمدنی اور اخراجات میں فرق کو سرپلس کیا گیا، کاروباری طبقات کو مراعات دی گئیں، معاشی صورتحال میں بہتری اور برآمدات میں اضافہ ہوا۔ لیکن کورونا وائرس آیا تو معیشت کو دھچکا لگا، 1000 ارب کا مالی امداد دی گئی، گندم خریدنے کا پیکج دیا گیا، ایک کروڑ پچاس ہزار لوگوں کو نقد کیش دیا گیا۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت ہماری بیرونی معاشی ترقی میں بہتری آئی ہے، پہلے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20ارب ڈالر تھا، اس کو گرا دو سالوں میں 3ارب کیا گیا، اب 792ملین کا سرپلس ہے، اندرونی خسارہ ہمارے اخراجات آمدن سے زیادہ تھے، لیکن ہم نے اخراجات میں کمی کی ، ٹیکسز میں اضافہ کیا، جس کے باعث قرضہ نہیں لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں