گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی والوں نے کیا چالبازی کرکے الیکشن جیتا ؟ سلیم صافی کے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) گلگت بلتستان کی اقتصادی اور اسٹرٹیجک اہمیت سی پیک کے تناظر میں مزید بڑھ گئی ہے لیکن افسوس کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت اور اس وقت کی فوجی قیادت نے سی پیک میں گلگت بلتستان کو بلوچستان کی طرح اس کا جائز حصہ نہیں دیا۔ توقع کی جارہی تھی کہ پی ٹی آئی کی

حکومت اس زیادتی کا ازالہ کرے گی لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔تاہم گلگت بلتستان میں جب انتخابات کا وقت آیا تو عمران خان کو بھی گلگت بلتستان یاد آیا ۔نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔چنانچہ بغیر کسی ہوم ورک کے، کشمیری اور ملکی قیادت کے ساتھ مناسب صلاح مشورے کے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اعلان کیا گیا جس کی آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت نے مخالفت کی۔دوسری طرف گلگت بلتستان کو فتح کرنے کے لئے علی امین گنڈاپور وغیرہ کو ٹاسک سونپ دیا گیا اور وہاں کے انتخابات میں 2018کے عام انتخابات جیسے حربے استعمال ہونے لگے۔ہم نے بہت التجائیں کیں اور مطالبہ کرتے رہے کہ گلگت بلتستان کی حساسیت کے پیش نظر یہاں پر روایتی حربے استعمال نہ کئے جائیں لیکن وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ پہلے وہاں مصنوعی طور پر پی ٹی آئی بنوائی گئی ۔ اس میں الیکٹیبلز شامل کروائے گئے اور پھر ان کو جتوایا گیا ۔الیکشن کمیشن کو اپاہج بنایا گیا۔ پھر گنتی کے دوران وہ عمل ایک اور شکل میں دہرایا گیا جو 2018کے الیکشن میں استعمال کیا گیا تھا۔ویسے تو پاکستان میں ہر سیاسی حکومت بے اختیار ہوتی ہے لیکن گلگت بلتستان کی حکومت6 حقیقتاً کوئی خاص چیز نہیں۔یوں وہاں کی حکومت ہاتھ آنے سے کوئی بادشاہ نہیں بن جاتا بلکہ حکومت جس کی بھی ہو عملاً گلگت بلتستان کو وفاق سے ایک سیکرٹری کنٹرول کررہا ہوتا ہے لیکن اب کی بار یہ الیکشن پاکستان کی سلامتی اور کشمیر کاز کے حوالے سے نہایت اہم ہوگیا تھا اور اس لئے

ہم بار بار ہاتھ جوڑ کر ملک چلانے والوں سے التجائیں کررہے تھے کہ وہ گلگت بلتستان کے الیکشن کو الیکشن رہنے دیں ، سلیکشن نہ بنائیں ۔وجوہات اس کی یہ تھیں کہ اس وقت سی پیک کے تناظر میں پاکستان اور چین کے دشمنوں کی نظریں گلگت بلتستان پر لگی ہوئی ہیں اور پاکستانی ریاست کے لئے وہاں کے کسی بھی فرد یا طبقے کو ناراض کرنا ملکی مفاد میں نہیں ۔ پہلے سے کچھ لوگ پاکستانی ریاست کے رویے کے خلاف نعرہ زن تھے ۔یہ آوازیں حقیقی نمائندے ہی دبا سکتے تھے لیکن جب وہاں پر بھی مصنوعی قیادت مسلط کی جائے گی توپھر وہاں بھی پی ٹی ایم جیسی تنظیمیں وجود میں آسکتی ہیں۔دوسری وجہ گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ فساد کا خطرہ ہے ۔ بدقسمتی سے ماضی میں دشمن کی سازشوں سے وہاں مسلکی بنیادوں پر لوگوں کو لڑایا گیا ۔ اب بھی انڈیاجیسی طاقتیں ہمہ وقت اس آگ کو بھڑکانے میں لگی رہتی ہیں ۔سابق وزیراعلیٰ حفیظ الرحمٰن کی باقی کارکردگی جیسی بھی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلے کو انہوں نے انتہائی مہارت کے ساتھ قابو کرلیا تھا ۔ پیپلز پارٹی نے بھی قومی جماعت ہونے کے ناطے اس مسئلے کو قابو کرنے میں مثبت کردار ادا کیا۔ اب علی امین گنڈا پور اور زلفی بخاری جیسےلوگوں کے نامزد نمائندے کیا اس سنجیدہ مسئلے کو قابو کرسکیں گے ؟تیسری وجہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کا معاملہ جموں و کشمیر سے جڑا ہوا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبے کی حیثیت گلگت بلتستان کے اکثریتی لوگوں کا مطالبہ ہے ۔

میں بھی ماضی میں اس کے لئے آواز اٹھاتا رہا لیکن جب سے نریندرمودی نے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرلیا ، تب سے میں نے یہ مطالبہ دہرانا وقتی طور پر چھوڑ دیا تھا ۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ حریت کانفرنس کے رہنما اس موقع پر اس اقدام کے حق میں نہیں تھے اور ان کا یہ خیال ہے کہ اس وقت اس اقدام سے ان کے کاز کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔اس وقت مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے لوگ شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں۔ ان کو اعتماد میں لئے اور پوری پاکستانی قیادت کو آن بورڈ لئے بغیر ، حکومتِ پاکستان کے یکطرفہ اقدام سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی؟اب اگر گلگت بلتستان میں جینوئن قیادت برسراقتدار آتی تو مشاورت سے پرویژنل صوبے کو بنانے کا عمل آسان ہوتا لیکن ایسے عالم میں جبکہ وفاق میں بھی ایک متنازعہ حکومت ہے تو گلگت بلتستان میں ایک متنازعہ حکومت یہ کام کسی بھی صورت خوش اسلوبی سے نہیں کرسکتی کیونکہ اب کشمیریوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مین اسٹریم جماعتیں بھی تعاون نہیں کریں گی۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے انتخابی نتائج کو مسترد کردیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں کی سیاست یہ دونوں جماعتیں بالخصوص پیپلز پارٹی جیت چکی۔بلاول بھٹو نے جس طرح گلگت بلتستان میں ڈیرے ڈال دیے اور پھر ان کی تقلید میں جس طرح مریم نواز وہاں گئیں اور جلسوں سے خطاب کیا ، اس کی وجہ سے گلگت بلتستان کے لوگوں کا پاکستان کے ساتھ اپنائیت کا احساس اجاگر ہوا اور دوسری طرف ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے ان کے ایشوز کو پاکستانی میڈیا میں جگہ مل گئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں