چینی بحران کا ذمہ دار کون ۔۔۔؟؟ نوکری سے برخواست ہونیوالے اعلیٰ افسر کے انکشافات نے نئی بحث چھیڑ دی

لاہور(ویب ڈیسک) چینی کمیشن کی تحقیقات کے دوران معطل اور بعد میں انکوائری کے نتیجے میں نوکری سے برطرف افسر سجاد مصطفیٰ باجوہ نے وزیر اعظم عمران خان، پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور مشیر شہزاد اکبر پر براہ راست الزام عائد کیے ہیں کہ انھوں نے شوگر لٹیرے کو 400 ارب روپے سے زیادہ کا فائدہ پہنچایا،

وہ اس معاملے پر عدالت جائیں گےسابق ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سجاد مصطفی باجوہ نے کہا ہے کہ نیب چینی کی بڑھتی قیمتوں پر ریفرنس کیوں فائل نہیں کررہا، وزیراعظم کیوں نہیں بتاتے کہ انہیں چینی کے معاملے پر کس نے بلیک میل کیا تھا،نجی اخبار میں شائع خبر کے مطابق انہوں نے کہا کہ 1996میں اس وقت کے وزیرداخلہ نصیراللہ بابر نے بھی چینی لٹیروں کے خلاف کارروائی کی تھی اس وقت چینی کی قیمت گیارہ روپے سے بڑھ کر 19روپے تک جاپہنچی تھی لیکن پھر تین دن کے اندر قیمت دوبارہ اپنی اصل قیمت پر آگئی تھی۔ چینی برآمد ہوئی تو کمیشن بنا جس کا میں بھی حصہ تھا پتا چلا کہ 70فیصد چینی افغانستان جارہی ہے جبکہ وہاں اتنی چینی تو استعمال ہی نہیں کی جاتی پھر میں نے مشورہ دیا کہ ایف بی آر اوراسٹیٹ بینک سے ڈیٹا چیک کرایا جائے میں نے اپنے ڈی جی کو خط لکھا کہ مجھے ایف بی آراوراسٹیٹ بینک ڈیٹا فراہم کیا جائے بجائے اس کہ وہ ڈیٹا مجھے فراہم کیا جاتا ایف بی آر ناراض ہوگیا۔ شوگر کمیشن پر کمیٹی فروری میں تشکیل دی گئی دس سے تیرا مارچ کے درمیا ن چینی کی کرشنگ ختم ہوگئی یہ وہ وقت تھا جب شوگرملوں میں وافر مقدار میں شوگر موجود تھی لیکن پھر بھی قیمت میں اضافہ ہوگیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شوگر کمیشن بننے کے بعد بھی قیمتوں میں کیوں اضافہ ہوتا رہا اورکمیشن بھی خاموش بیٹھا رہا۔نیب چینی کی بڑھتی قیمتوں پر ریفرنس کیوں فائل نہیں کررہا،عدالت کا حکم ہے کہ ستر روپے چینی فروخت کی جائے شوگر ملزایسوسی ایشن حکومت کو خط لکھتی ہے کہ ہم سے ستر روپے چینی خرید لیں لیکن حکومت نے انکار کردیا اور کہا ہم ستر نہیں 63روپے فی کلو کے حساب سے لیں گے، یہ سب ملی بھگت کے ذریعے ہوا ہے۔ جب میں گھوٹکی گیا تو دیکھا کہ ایف بی آرشوگر ملزکا ریکارڈمینٹین نہیں کررہی میں نے پوچھا تو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے یہ سلسلہ ختم کردیا ہے پھر میں نے اپنے ڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھا کہ پہلے چینی کا ریکارڈ لیا جاتا تھا اب کیوں نہیں لیا جاتا مجھے جواب دیا گیا کہ اس پر چیئر پرسن نے اعتراض کیا ہے انہوں نے اظہار ناراضی کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھ سے خط لکھے بغیر پوچھ لیتے میں آپ کوسمجھا دیتا میں نے کہا کہ ہر چیز دستاویز ات کررہا ہوں زبان سے کی گئی بات کی اہمیت نہیں ہوتی۔جتنی ہائی پروفائل انکوائریاں ہیں ایڈیشنل ڈی جی ابو بکرخدابخش کیوں کررہے ہیں شوگر کی انکوائری ہو یا میری انکوائری کا معاملہ سب ایڈیشنل ڈی جی دیکھ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں