حکومتی عہدیداروں کو 400 ارب روپے کا فائدہ!چینی کی افغانستان اسمگلنگ، کچھ اداروں کے کردار پر سوال اُٹھائے تو میرے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ سابق ڈپٹی ڈائریکٹر FIAکے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور(نیوز ڈیسک) چینی کمیشن کی تحقیقات میں جاسوسی کے الزام پر برطرف ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سجاد مصطفیٰ باجوہ نے وزیراعظم عمران خان اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں پر شوگر مافیا کو فائدہ پہنچانے کا الزام عائد کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے شوگرمل مالکان کو 400 ارب سے زائد کا فائدہ پہنچایا ہے، چینی کمیشن کی انکوائری کے

دوران جب میں نے چینی کی افغانستان اسمگلنگ، چینی کے کاروبار میں سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور ایف بی آر جیسے اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے، تو کچھ طاقتور لوگ میرے خلاف ہوگئے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو سے گفتگو میں برطرف ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سجاد مصطفیٰ باجوہ نے شوگرمل مالکان کو 400 ارب سے زائد کا فائدہ پہنچانے کا الزام وزیراعظم عمران خان اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے برطرف کرنے کا فیصلہ اسی وقت کرلیا گیا تھا جب میں چینی کی افغانستان اسمگلنگ، چینی کے کاروبار میں سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور ایف بی آر جیسے اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے تو کچھ طاقتور لوگ میرے خلاف ہوگئے تھے۔جب کہ مجھ پر عائد الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ دراصل یہ طاقتور لوگ نہیں چاہتے تھے کہ میں شوگر مافیا کو قابو کرنے والے اقدامات پر تحقیقات کروں۔ میرے خلاف انکوائری قائم کرنا تو محض ایک کارروائی کا حصہ تھی۔ واضح رہے شوگر کمیشن کا ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفیٰ کو وفاقی وزیرخسروبختیار اور اہم شخصیات کیلئے جاسوسی کے الزام میں پہلے کیا گیا تھا جبکہ بعد میں انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پر محکمے سے برطرف کردیا گیا ۔ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سجاد باجوہ پر شوگر کمیشن کی رپورٹ لیک کرنے کا الزام تھا۔ سجاد باجوہ چینی بحران اسکینڈل کا فرانزک آڈٹ کرنے والی ٹیم میں شامل تھے۔ ان پر شوگر ملز مالکان کو رپورٹ لیک کرکے انہیں فائدہ پہنچانے کا الزام تھا۔ ان کیخلاف قائم انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ سجاد باجوہ نے شوگر مل مالکان سے بھاری رقم لے کر انہیں شوگر انکوائری کی تفصیلات فراہم کیں۔ جس پر سجاد مصطفیٰ باجوہ کو نوکری سے برطرف کرنے کی سفارش کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں