ملک میں سیاسی صورتحال کشیدہ! مریم نواز کی سُنی گئی؟ ڈی جی ISI جنرل فیض حمید نے کیا تجویز دے ڈالی ؟ رؤف کلاسرا کے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (نیوز ڈیسک ) سینئر صحافی اور معروف اینکر رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید نے جو لیکچر دیا، اس میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مختصر مگر بہت اہم بات کی کہ اس وقت ملک کو گرینڈ نیشنک ڈائیلاگ

کی ضرورت ہے۔تفصیلات کے مطابق معروف تجزیہ کار کا اپنے ویڈیو بلاگ میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہنا ہے کہ این ڈی یونیورسٹی میں ڈی جی آئی ایس آئی کے لیکچر کے دوران معروف صحافی خاور گھمن نے سوال پوچھا کہ پاکستان میں جنتی بھی سیاسی قوتیں ہیں، وہ سب اپنے مفادات کی اسیر ہیں۔اور معاشرے میں شدید قسم کی تقسیم پیدا ہو چکی ہے تو اس کا کیا حل ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جنرل فیض حمید نے جواب میں مختصر فقرہ کہا کہ ان کے خیال میں اس وقت ملک میں گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔
رؤف کلاسرا نے مزید بتایا کہ 90 کی دہائی میں بینظیر بھٹو نے نئے عمرانی معاہدے کی بات کی تھی، بعد میں ٹرتھ اینڈی کنسلیشن کمیشن کی بات چلتی رہی۔انہوں نے کہا کہ آصف سعید کھوسہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے تو انہوں نے بھی کہا تھا کہ ریاست کے مختلف ستونوں کو مل کر ایک ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت ہے۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایسا کوئی ڈائیلاگ اگر ہوتا ہے تو کن شرائط پر ہوں۔ مریم نواز کی شرط یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت پہلے ہٹائی جائے۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز پہلے پی کہہ چکی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے کچھ لوگوں سے رابطے میں ہے، ا سکے بعد ڈی جی آئی ایس آئی کا نیشنل ڈائیلاگ کی بات کرنا ناکافی معنی خیز معاملہ ہے۔رؤف کلاسرا نے مزید کہا کہ اب یہ دیکھنا ہے کہ اگر ایسا کوئی ڈائیلاگ شروع ہوتا ہے تو اس کی شکل کیا ہو گی؟ کیا تمام سیاسی جماعتیں بیٹھ کر کوئی نیا سماجی معاہدہ کریں گے۔انہوں نے کہا سب بڑاسوال عمران خان سے متعلق ہے کہ کیا وہ اس ڈائیلاگ کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔وہ تو بار بار کہہ چکے ہیں کہ حکومت تو چھوڑ دوں لیکن کرپشن کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں