حکومت کیا کرنے جا رہی ہے؟ اسلام آباد دھرنا ختم کرنے کی کہانی سامنے آگئی، طلعت حسین کے ناقابلِ یقین انکشافات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) تحریک لبیک پاکستان اور وفاقی حکومت کے مابین ہونے والے مبینہ معاہدے کی مندرجات سامنے آ گئے۔ تفصیلات کے مطابق سینئیر صحافی و تجزیہ کار طلعت حسین نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ مبینہ معاہدے کی تصویر شئیر

کر دی۔ طلعت حسین نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ خادم حسین رضوی کے کارکنان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے عمران خان کی حکومت کو تمام مطالبات ماننے پر مجبور کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اُن کی جانب سے رسمی معاہدہ کی کاپی ہے۔ البتہ حکومتی نمائندوں نے اس پر کوئی مؤقف نہیں دیا۔ طلعت حسین کی جانب سے شئیر کی گئی تصویر ہاتھ سے لکھے ہوئے ایک معاہدے کی ہے۔


جس میں لکھا گیا کہ دونوں فریق نے باہمی مشاورت اور اتفاق سے مندرجہ ذیل نکات پر اتفاق کیا۔ پہلا نکتہ یہ کہ حکومت فرانس کے سفیر کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے فیصلہ سازی کے ذریعے ملک بدر کرے گی۔حکومت اپنا سفیر فرانس میں تعینات نہیں کرے گی۔ فرانس کی مصنوعات کا سرکاری سطح پر مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ گرفتار شدہ اسیران ناموس رسالت ﷺ کو فی الفور رہا کیا جائے گا اور بعد میں موجودہ مارچ کے حوالے سے کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔ اس صفحے پر آخر میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم اور تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں کے دستخط بھی موجود ہیں۔

یاد رہے کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف فیض آباد پر تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے دھرنا دیا گیا تھا جس کی وجہ سے جڑواں شہروں میں موبائل فون سروس بند جب کہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی ہونے سے بھی شہریوں کو مشکلات کا سامنا بھی تھا۔ تاہم گذشتہ رات حکومت اور فیض آباد میں دھرنا دینے والی جماعت کے قائدین کے مذاکرات کامیاب ہوگئے تھے جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں