گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی کامیابی پوری قوم کے لیے ایک خوشخبری ہے ،لیکن کیسے ؟ پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) گلگت۔ بلتستان کے الیکشن مکمل ہو چکے۔ پی ٹی آئی کی کامیابی پاکستان کے لئے ایک خوش آئند خبر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرکز کی حکومت اس پروویژنل صوبے کو مستقل صوبے کی حیثیت کب دیتی ہے۔ عوام کو بجلی، پانی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ماضی کے مقابلے میں

اب اور مستقبل میں کیا ملتا ہے۔پاک فوج کے ایک سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وعدوں کا ایفا ہوتا ہے یا ماضی کی طرح زبانی جمع خرچ کرکے 5برس پورے کر لئے جاتے ہیں۔میری نظر میں اس الیکشن کے چند درچند مضمرات تھے اور ان کی ایک زبردست سٹرٹیجک اہمیت بھی تھی۔ اس کا اجمالی تذکرہ ضروری ہے۔اس الیکشن کی سٹرٹیجک اہمیت یہ تھی کہ اگر پی ٹی آئی ہار جاتی تو نہ صرف یہ کہ مرکز میں عمران خان کی اہمیت کسی نہ کسی سکیل پر گہنا جاتی بلکہ میاں نوازشریف کے فوج مخالف بیانئے کو بھی تقویت حاصل ہو جاتی اور آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کی وقعت و منزلت میں بھی ڈینٹ پڑ جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ اپوزیشن کی دونوں مین سٹریم سیاسی پارٹیوں نے انتخابی مہم کے دوران ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ اس الیکشن میں پی ٹی آئی کامیاب نہ ہو۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس ’زور‘ میں دلائل و براہین کا وزن بہت کم تھا۔ ماضی میں اپوزیشن کی دونوں سیاسی پارٹیوں کو متعدد بار مواقع ملے لیکن موجودہ گلگت بلتستان اور ماضی کے شمالی علاقہ جات کی تقدیر وہی رہی کہ جو تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اپنے اپنے ادوار میں یہ دونوں پارٹیاں گلگت اور سکردو کے علاوہ دوسرے شہروں کی ڈویلپ منٹ میں بھی اسی شد و مد سے کام لیتیں جیسے لاہور، اسلام آباد، ملتان،فیصل آباد، کوئٹہ، پشاور، کراچی اور پاکستان کے باقی چاروں صوبوں کے بڑے بڑے شہروں میں لیا گیا تھا لیکن افسوس کہ اس علاقے کی اَپ لفٹ میں کوئی کوشش نہ کی گئی۔آج اسلام آباد میں بھلے عمران خان کی حکومت تھی اگر چین نے 6برس قبل سی پیک کا آغاز نہ کیا ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ آج کے الیکشن بھی گزشتہ الیکشنوں کی طرح ’گمنام‘ ہوتے۔کوئی مریم نواز یہاں قدم رنجہ نہ فرماتی، کوئی بلاول زرداری یہاں تشریف نہ لاتا اور کوئی گنڈا پور اِدھر کا رخ نہ کرتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں