بات بہت دور تک جا نکلی۔۔!! اسرائیل کو تسلیم کرنے اور امن معاہدہ کرنے کیلئے پاکستان کو کون مجبور کر رہا ہے؟ وزیراعظم عمران خان نے پہلی بار لب کُشائی کردی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے اسرائیل کیساتھ امن معاہدہ ہونے کے بعد پاکستان کو بھی مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کرے۔ تفصیلات کے مطابق عمران خان نے اس بات کا انکشاف ایک انٹرویو میں کیا۔

جب اُن سے سوال کیا گیا کہ کیا اس حوالے سے اُن کو کسی اسلامی ملک سے بھی کہا جا رہا ہے تو انہوں نے اس کا جواب دینے سے معذرت کر لی۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ جب تک اسرائیل فلسطینی عوام کے مطابق اس مسئلے کا حل نہیں کرتا پاکستان اسرائیل کے ساتھ نہ سفارتی تعلق قائم کرے گا اور نہ ہی سفارتی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی عرب یو اے ای اور دوسرے ملکوں کی طرح خود بھی اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے لیکن اسلامی ملک کا سربراہ ہونے کے ناطے محمد بن سلمان اسرائیل سے امن معاہدہ کرنے سے ڈر رہے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے ان کو اسلامی دنیا سے شدید تنقید کا سامنے کرنا پڑے گا۔ خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے یو اے ای اور بحرین کے ساتھ امن معاہدے کے بعد سعودی حکمرانوں کا خصوصی شکریہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ امریکا کے سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور محمد بن سلمان پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ امن معاہدے کا اعلان کرے۔ واضح رہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں نیتن یاہو کے اتحادی ڈونلڈ ٹرمپ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے بعد اسرائیل کو ڈر ہے کہ عرب ممالک کے ساتھ امن معاہدے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے اس لیے اسرائیل کی کوشش ہے کہ وہ ٹرمپ کی مدت ختم ہونے سے پہلے مزید عرب ممالک کے ساتھ امن معاہدے کر لے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں