میں اور میری فیملی گھر میں آنے والے ہر مہمان کی تواضع خود کرتے ہیں ، ان کو اپنے ہاتھ سے چائے کھانا پیش کرتے ہیں ، اس عادت کے پیچھے کیا گر کی بات چھپی ہے ؟ جاوید چوہدری کی نوجوانوں کے کام کی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) ہم اگر کسی دن فرسٹ اور تھرڈ ورلڈ اور کامیاب اور ناکام لوگوں کی عادتوں کا تجزیہ کریں تو حیران کن حقائق ہمارے سامنے آئینگے‘ ہم پاکستان جیسے معاشروں میں بیٹھ کر یہ سوچتے ہیں انسان جب ترقی کرتا ہے‘ یہ سیاسی لحاظ سے کام یاب ہوتا ہے یا اس کے پاس

اربوں کھربوں روپے آ جاتے ہیں تو یہ مے نوشی اور سگریٹ اور سگار ضرور پیتا ہے‘ یہ سارا سارا دن لیٹا بھی رہتا ہو گا اور یہ ٹشو پیپر کے لیے بھی کسی کو آواز دیتا ہو گا اور اس کی زندگی میں ڈرائیور اور گارڈز بھی لازمی ہوں گے اور اسے اب پڑھنے‘ دوڑنے‘ کھیلنے اور لائین میں لگنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔یہ ایک تھرڈ ورلڈ سوچ ہے اور آپ کو یہ سوچ ملک کے ہر حصے میں دکھائی دے گی جب کہ اس کے مقابلے فرسٹ ورلڈ کی سوچ اور طرز زندگی بالکل مختلف ہے‘ یہ لوگ یہ سوچ ہی نہیں سکتے ملک میں کوئی شخص طاقتور‘ مشہور اور دولت مند ہو اور وہ دانشور نہ ہو اور وہ جسمانی لحاظ سے فٹ نہ ہو‘ اس میں عاجزی اور انکساری نہ ہواور یہ ایمان دار اور مہذب نہ ہو اور یہ اپنا کام خود نہ کرتا ہو اور یہ کسی بداخلاقی یا کسی عادت بد میں بھی مبتلا ہو۔یورپین لوگ سمجھتے ہیں یہ ناکام اور برے لوگوں کی عادتیں ہیں اور یہ عادتیں ہمارے ملک کے طاقتور‘ مشہور اور کام یاب لوگوں میں ہو ہی نہیں سکتیں جب کہ ہم یہ سوچتے ہیں ہمارے ملک کا کوئی طاقتور‘ مشہور اور کامیاب شخص ایمان دار‘ مہذب‘ پڑھا لکھا اور صحت مند نہیں ہو سکتا ہے‘ یہ اپنی گاڑی بھی خودنہیں چلا سکتا‘ یہ اپنے گھر کا سودا بھی خود نہیں لے کر آئے گا اور یہ کتابیں بھی نہیں پڑھے گا اور یہ واک اور جاگنگ نہیں کرے گا اور یہ لوگوں سے جھک جھک کر بھی نہیں ملے گا اور یہ وہ ناکام سوچ ہے جو ہمیں کام یاب نہیں ہونے دیتی۔

ہم اپنے گھر میں اپنے مہمانوں کی خدمت خود کرتے ہیں‘ میں یا میرے بیٹے مہمان کے سامنے چائے اور کھانے کے برتن لگاتے ہیں اور مہمان چھوٹا ہو یا بڑا ہم خود اسے سرو کرتے ہیں‘ ہمارے تمام مہمان ہماری اس ’’غریبانہ سوچ‘‘ پر حیران ہوتے ہیں لیکن میں انھیں ہر بار یہ جواب دیتا ہوں ’’ہم اگر خود اپنے ہاتھ سے اپنے مہمانوں کی خدمت بھی نہیں کر سکتے تو پھر ہمیں انسان کہلانے کا کوئی حق نہیں‘‘ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی میں نے اپنے دونوں بیٹوں کو ویٹر کی ٹریننگ دلا رکھی ہے‘ یہ پروفیشنل ویٹرز بھی ہیں۔میرے دوستوں کو میری یہ حرکت اچھی نہیں لگتی لیکن میں دنیا میں جہاں بھی گیا میں نے بڑے بڑے لوگوں کو اپنے مہمانوں کو خود سرو کرتے دیکھا‘ میں آرٹ بک والڈ سے ملا تھا‘ میں نے بل گیٹس اور لی آئیا کوکا سے ملاقات کی‘ یہ لوگ خود کافی بنا کر اپنے مہمانوں کو پیش کر رہے تھے اور ان کی شان کا کوئی کنگرا ڈھیلا نہیں ہوا تھا جب کہ ہم گاڑی کا دروازہ تک دوسروں سے کھلواتے ہیں اور ہم جب تک لیٹ نہ ہو جائیں‘ ہم جب تک لوگوں کو انتظار نہ کرا لیں ہم خود کو اہم نہیں سمجھتے۔ہمیں ماننا ہو گا امریکا اگر آج امریکا ہے تو اس کی وجہ امریکیوں کی عادتیں ہیں‘ یہ لوگوں کو دو عادتوں میں تقسیم کرتے ہیں‘ اچھی عادتوں والے لوگ اور بری عادتوں کے لوگ‘ امریکا میں اگر آپ پڑھے لکھے‘ مہذب‘ ایمان دار‘ وقت کے پابند‘ جسمانی اور ذہنی طور پر فٹ اور جہد مسلسل کے عادی ہیں

تو پھر آپ گورے ہوں یا کالے آپ کا نام خواہ بارک حسین اوباما ہو یا کمالا ہیرس آپ کو دنیا کی کوئی طاقت انتہائی بلندی تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی لیکن آپ اگر سست‘ مایوس‘ بیمار‘ بے ایمان‘ غیرمہذب اور نالائق ہیں تو پھر آپ خواہ کسی بھی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں امریکی معاشرہ آپ کو مسترد کر دیگا‘ کاروبار ہو یا سیاست ناکامی پھر آپ کا مقدر ہو گی۔آپ اوباما اور ان کے بھائیوںکی مثال لے لیجیے‘ برنارڈ امریکا میں پراپرٹی کا چھوٹا سا بزنس کرتا تھا‘جارج نے ایک غیر معروف زندگی گزار دی‘ بارک حسین اوباما دو بار امریکا کے صدر بنے جب کہ ان کے بھائی اسی امریکا میں اس دوران لوئرمڈل کلاس زندگی گزارتے رہے‘ جارج اور برنارڈ وائیٹ ہاؤس نہیں پہنچ سکے اور بارک حسین اوباما کو کوئی شخص وائیٹ ہاؤس پہنچنے سے نہیں روک سکا اور یہ ہے امریکا اور یہ ہے ترقی کا اصل گُر یعنی آپ دس اچھی عادتیں اپنا لیں اور آپ کے لیے سارے بند دروازے کھل جائینگے اور آپ اگر کینیڈی خاندان سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور آپ کی اگر عادتیں اچھی نہیں ہیں تو پھر کوئی شخص آپ اور آپکے خاندان کو ڈوبنے سے نہیں بچا سکے گا۔دنیا میں بھی کامیابی کا صرف یہی گُر ہے‘ آپ اچھے ہو جائینگے آپکو اس کا پھل ضرور ملے گا اور آپ اگر غلط راستے پر نکل گئے ہیں تو پھر آپ کے مقدر میں بربادی کے سوا کچھ نہیں بچے گا‘ یقین نہ آئے تو آپ ٹیسٹ کر کے دیکھ لیں آپ کو ایچ ٹو او کی طرح کا میابی کا یہ فارمولا بھی ہر جگہ یکساں ملے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں