’’میں آپ کا رکھوالا ہوں ‘‘

مجھ سے کسی نے پوچھا کون ہو آپ ؟ میں نے جواب دیا میں وہ فقیر ہوں جسکو اپنی ماں نے نہیں پہچانا ۔ایک دن میں اسی لباس میں آیا اور گھر کے سامنے بیٹھ گیا تو بھائی نے دیکھا اور آواز دی ماں ایک فقیر آیا ہے باہر کھانے کو کچھ دو تب ماں نے سامنے روٹی رکھ دی اور کہا فقیر دعا کرنا میرے بیٹے کےلیے میں نے سوال پوچھا :بیٹا کیا کرتا ہے؟ماں کی انکھوں کا ضبط ٹوٹا اور آنسوؤںکے پیمانے چھلک گئے ۔ رندھائی سی آواز میں کہا آرمی میں ہے ۔لیکن کوئی پتہ نہیں ہوتا

بہت کم رابطہ کرتا اور یہی بات بولتا ہے ماں اگر میں لوٹ کر واپس نہیں آیا تو سمجھ لینا مجھ سے اس وطن کی مٹی کے تحفظ کی قسم نےجان مانگی اور اس سر زمین نے گود میں لے لیا ہوگا۔اور ماں کی انکھوں کا آنسو آج بھی میں نہیں بھول پایا۔ اللہ کی قسم نجانے ایسی کتنی ماؤں کے بیٹے اس وطن کے لیے قربانی دے رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ یہ کہانی کیپٹن قدیر کی ہے ۔ کیپٹن قدیر کا تعلق ایک بہت بڑے ڈمیندار گھرانے سے تھا- خود کیپٹن قدیر 300 ایکٹر قابل کاشت

اراضی کا ذاتی مالک تھا سونے کا چمچمہ منہ میں لئے پیدا ہونے والا یہ جوان جب بڑا ہوا تو وطن عزیز کی حفاظت کیلئے پاک فوج میں بھرتی ہوگیا- اس کے رشتے داروں نے اس پر طنز کیا کہ جب روپیہ پیسہ کی گھر میں ریل پیل ہے تو نوکری کرنے کی کیا ضرورت ہے تنخواہ پر نوکر بن رہے ہو- یہ سن کر کیپٹن قدیر کا خون جوش م ارنے لگا اور چیخ کر کہا فوجی تنخواہ کے لیے بھرتی نہیں ہوتا ہے فوجی تو وطن عزیز کی حفاظت کی خاطر بنتے ہیں اور میں اس ملک پر اپنا تن من دھن سب قربان کر دوں گا- یہی جذبہ لے کر یہ نوجوان فوج میں سیکنڈ لیفٹینٹ بھرتی ہوتا ہے مقابلہ کا امتحان پاس کر کے اور ترقی کر کے کیپٹن بن جاتا ہے-

اس کا جذبہ دیکھ کر اسے خفیہ ایجنسی ملٹری انٹیلی جینس میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں پر مزید اسے بلوچستان خفیہ مشن پر بھیج دیا جاتا ہے- اس کے ذمہ مشن لگتا ہے کہ بلوچستان میں را کا نیٹ ورک تلاش کرنا ہے اور دہ ش تگردوں کو ختم کرنا ہے – را کے نیٹ ورک کو تلاش کرنے کے لئے مٹی کی محبت میں یہ جنونی انسان جس نے اپنی ساری جوانی نرم گرم بستروں پر گزاری جہاں گھر میں نوکر چاکر کی بھرم ار تھی ایک ایک چیز بستر پر نوکر چاکر آرڈر کر کے لے آتے تھے- مگر آفرین آفرین اس شیر دل ہیرو پر کہ اپنے دیس کو دشمنوں سے بچانے کے لئے یہ جنونی کوڑا چننے والا بن جاتا ہے اور پورے تین سال یہ جنونی بلوچستان کے مخلتف شہروں

میں فقیر بن کر کوڑا چنتے چنتے گزار دیتا ہے- اس کا بستر بھی کوڑا کرکٹ کا ڈھیر وہی اس کا کھانا پینا سخت ترین سردیوں میں یہ جنونی ایک انتہائی بدبودار پھٹے پرانے کمبل میں کھلے آسمان تلے گزارتا ہے صرف دیس کی حفاظت کیلئے ۔ آخر اس کی محنت رنگ لاتی ہے اور یہ را کے بہت بڑے نیٹ ورک کلبھوشن تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے-جی ہاں دوستو کلبھوشن جیسے مشہور ومعروف د ہ ش تگرد کو پکڑنے کے پیچھے اس جنونی مار خورکیپٹن قدیر کی تین سال کی محنت ہوتی ہے اور اس ماہ رمضان کے آغاز میں سلمان نامی دہ ش ت گرد جس کو م ارتے م ارتے ہمارے کرنل سہیل خود ش ہ ید ہوگئے تھے اس کی اطلاع دینے والا بھی یہی مار خور تھا۔

آج بلوچستان میں جو امن وامان قائم ہوا ہے تو اس کے پیچھے اس جنونی نوجوان کا بہت بڑا کردار ہے- کیپٹن قدیر کے اتنے بڑے بڑے کارنامے ہیں کہ لکھنے کے لئے کتابیں کم پڑ جائیں- یہ کیسا انسان تھا 300 ایکڑ اراضی کا مالک شخص کس طرح 3 سال کوڑا چننے والا فقیر بنا رہا کس طرح بدبودار کمبل میں اس نے 3 سال گزار دیے- ایسے لوگ انسان ہرگز نہیں ہوسکتے یہ فرشتہ تھا-ہم جیسے نام نہاد حب الوطنی کے دعویدار ایک رات بھی کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر نہیں گزار سکتے- مگر اس شخص نے ہم پاکستانیوں کو سکھ امن دینے کی خاطر اپنے گھر کے نرم گرم بستروں کو لات مار دی-میری فوج کو طعنے دینے والو! یہ ایک امیر کبیر شخص تھا دولت

اس کے گھر کی لونڈی تھی-مگر یہ پاکستان کی خاطر فوجی بنا اور فوجی تنخواہ کے لئے نہیں بنتے فوجی تو مجاہد ہوتے ہیں جو وطن عزیز کی خاطر بنتے ہیں- ش ہ ید کیپٹن قدیر میرے ہیرو میرے پاس تیری تعریف کے لئے الفاظ نہیں ہیں تو عظیم ہے۔ ہاں اتنا کہتا ہوں ش ہ ید کیپٹن قدیر جیسے مجاہدوں کے مٹی سے اٹے بوٹ چومنا آنکھوں سے لگانا میرے لیے بہت بڑی سعادت کا درجہ رکھتا ہے- میرے پیر ومرشد میری فوج ہے میرے ش ہ ید ہیں-کیپٹن قدیر ش ہ ید آپ کے کارنامے تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھے جائیں گے- خاص طور پر کلبوھشن کو پکڑنے کے لئے جس طرح تو نے 3 سال کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر گزار دیے۔ اے پاک فوج کے ش ہ یدو ہم پاکستانی تمہارے

احسان مند ہیں- ہم یاد رکھیں گے مت سمجھو ہم نے بھلا دیا ش ہ ید تم سے یہ کہ رہے ہیں لہو ہمارا بھلا نہ دینا-بار بار میرے سامنے کیپٹن قدیر کی کوڑا کرکٹ والی تصویر گھومتی رہی- مٹی سے اٹے پاؤں میلے کچیلے پھٹے کپڑوں میں بھی اس کی آنکھوں میں ایک چمک ہے چیتے جیسی چمک شہزادہ لگ رہا ہے-وطن کی مٹی گواہ رہنا وطن عزیز کی خاطر ہم نے کیسے کیسے خوبصورت شہزادے قربان کیے -پاکستانیوں قدر کرو اپنے ش ہ یدوں کی اپنی فوج کو عزت دو اور فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جاؤ – اگر فوج کے شانہ بشانہ کھڑے نہ ہوئے تو یاد رکھنا پاکستان دش منو!داستان تک نہ ہوگی تمہاری داستانوں میں ۔۔۔ پاک فوج زندہ باد ۔۔۔ پاکستان پائندہ باد

اپنا تبصرہ بھیجیں