خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والا خواجہ سرا ’چاہت‘ دراصل کون ہے؟ناقابلِ یقین حقائق منظر عام پر

کوہاٹ (نیوز ڈیسک) کوہاٹ میں چند دن قبل ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جہاں چاہت نامی خواجہ سرا کی وجہ سے پانچ لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔جس کے بعد ضلعی انتظامیہ کو چاہت کو ضلع بدر کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ کوہاٹ میں خواجہ سرا چاہت کی ضلع بدری کے معاملے پر نجی ٹی

وی سے گفتگو کرتے ہوئے ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ خواجہ سرا چاہت اور اس کے ساتھیوں کو کوہاٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا تاکہ امن مزید خراب نہ ہو۔ واقعہ پر سارے گاؤں کے لوگ باہر نکل آئے تھے،

گاؤں کے لوگوں کا مطالبہ تھا کہ واقعے کی وجہ بننے والے خواجہ سرا چاہت کے خلاف کارروائی کی جائے۔بتایا گیا کہ شادی کی ایک تقریب کے دوران لوگوں کے دو گروپس تھے اور دونوں چاہت کی توجہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔جب ایک گروپ نے دیکھا کہ چاہت کی جانب سے دوسرے گروپ کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے تو وہ مشتعل ہو گئے۔

مذکورہ گروپ کا موقف تھا کہ چاہت دوسرے گروپ کو زیادہ توجہ اور پیار دے رہی ہے جس بنا پر ل ڑائی شروع ہوئی اور نتیجتاََ پانچ لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔ایک پارٹی چاہتی تھی کہ چاہت ان کے ساتھ وقت گزارے لیکن جب اس نے دوسری پارٹی کے ساتھ وقت گزارا تو اُن سے برداشت نہ ہوا۔ پہلے بھی ایک تقریب میں چاہت کو پرفارم کرنے کے لیے بلایا گیا تھا اور وہاں 19لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔ تحقیقات کے مطابق چاہت ہی کی وجہ سے ضلع میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں۔جبکہ دوسری جانب کے پی کے کی خواجہ سرا برادری کا کہنا ہے کہ خواجہ سرا کبھی بھی فساد نہیں چاہتے۔ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ ہمیں ضلع بدر نہیں کیا جائے۔خواجہ سراؤں کا کہنا ہے کہ اس دن لوگ ن شے کی حالت میں تھے۔ل ڑائی میں نہ تو چاہت کی غلطی تھی اور نہ ہی ہماری غلطی تھی۔وزیراعلیٰ کے مشیر ضیاء اللہ بنگش کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ شادی کی ایک تقریب میں پیش آیا۔جب میں جاں بحق ہونے والوں کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے گیا تو لوگوں نے چاہت سے متعلق بتایا اور اسے ضلع بدر کرنے کی درخواست کی۔چاہت نے شادی کی تقریب میں کچھ اور لوگ بلائے ہوئے تھے جس وجہ سے ل ڑائی شروع ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں