19 سو سے زائد پاکستانیوں کی دبئی میں جائیدادوں کا انکشاف ۔۔۔ ان کی مالیت کیا ہے اور س کا پاکستانی قرض سے کیا تعلق ہے؟ تفصیلات جان کر آپ غصے میں آ جائیں گے

دبئی (ویب ڈیسک) پاکستانی سرمایہ کاروں نے گزشتہ برس کے دوران دبئی کے رئیل اسٹیٹ شعبے میں دو ارب درہم سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔خلیج ٹائمز کے مطابق ہفتے کو دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں 2019 کے دوران زمین کی خرید و فروخت کے کاروبار میں سرمایہ کاری کے اعتبار سے پاکستان

چھٹے نمبر پر رہا ہے۔ گزشتہ برس 1 ہزار 913 پاکستانی سرمایہ کاروں نے دبئی کے رئیل اسٹیٹ شعبے میں 2 ارب 79 کروڑ درہم کی سرمایہ کاری کی۔بھارتی شہریوں کی سب سے زیادہ تعداد نے دبئی کی جائیدادوں میں سرمایہ کاری کی۔ اعداد و شمار کے مطابق 5 ہزار 246 بھارتی شہریوں نے دبئی کی جائیدادوں میں تقریبا 11 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی۔ سرمایہ کاری کے حجم کے اعتبار سے دوسرا نمبر اماراتی شہریوں کا رہا جنھوں نے 8 ارب درہم سے زیادہ کی رقم لگائی۔دبئی میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں 4اعشاریہ 92 ارب کے ساتھ سعودی عرب تیسرے، 3اعشاریہ 97 ارب درہم کے ساتھ برطانیہ چوتھے اور 3اعشاریہ 65 ارب درہم کے ساتھ چینی شہریوں کا نمبر پانچوا ہے۔ جب کہ 2 اعشاریہ 79 ارب درہم کے ساتھ پاکستان اس فہرست میں چھٹے نمبر پر ہے۔دبئی میں رئیل اسٹیٹ کے لیے 2019 میں مجموعی طور پر 226 ارب درہم کا لین دین ہوا اور اس شعبے میں ترقی کی شرح 2018 کے مقابلے میں 4 فی صد زیادہ رہی۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق برطانیہ میں 2030 سے ڈیزل اور پیٹرول پر چلنے والے نئی گاڑیوں کی فروخت پر پابندی عائد کردی جائے گی۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ 2040 سے ڈیزل اور پیٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کی فروخت پر پابندی عائد کردے گی تاہم بعد میں یہ ڈیڈ لائن 2035 کردی گئی اور اب 2030 کی جارہی ہے۔اس حوالے سے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن آئندہ ہفتے اپنی ماحولیاتی پالیسی کے حوالے سے تقریر میں باضابطہ اعلان کریں گے۔برطانوی حکومت کا یہ قدم گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے بعض ہائبرڈ گاڑیاں 2035 تک مستثنیٰ قرار دی جاسکتی ہیں کیوں کہ وہ برقی اور تیل سے حاصل کردہ توانائی کا استعمال کرتی ہیں۔ڈیزل اور پیٹرول سے چلنے والی نئی گاڑیوں کی فروخت سے برطانیہ کی کار سازی کی صنعت میں ایک بہت بڑی تبدیلی رونما ہوگی، اس صنعت سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق رواں برس فروخت ہونے والے گاڑیوں میں سے 73 اعشاریہ 6 فیصد گاڑیوں ڈیزل اور پیٹرول انجن والی تھیں جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت محض 5 اعشاریہ 5 فیصد رہی کیوں کہ وہ اس وقت کافی مہنگی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں