لندن کے پر تعیش فلیٹس میں رہنے والے کیا جانیں بدن ڈھانپنے کے لیے جھونپڑی کا کپڑا کاٹ کر گزارہ بھی کیا جاتا ہے ۔۔۔۔ ایک پول کھول دینے والی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آج کی نسل مگر یہ نہیں جانتی کہ قیام پاکستان کے 13 ماہ بعد جب لاہور والٹن میں مہاجرین سے اٹا ہوا مہاجر کیمپ ختم کیا گیا تو یہاں پر 19 ہزار نئی قبریں وجود میں آ چکی تھیں۔

کچھ عرصہ بعد طاقتور لوگوں اور بدعنوان سرکاری اہلکاروں نے تجاوزات کا بہانہ کرتے ہوئے یہاں زمین برابرکر دی اور خود اس جگہ پر قابض ہو کر بیٹھ گئے۔ ہندوستان سے پاکستان کی جانب بڑھتی ہوئی ریل گاڑیوں کے انجنوں اور بوگیوں کے اندر اور باہر‘ ایک ایک انچ پر کیڑوں مکوڑوں کی طرح چمٹے ہوئے مرد و خواتین کے مناظر مجھ سمیت اس ملک کے لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگوں نے نجانے کتنی بار اخبارات اور ٹیلی وژن کی سکرینوں پر دیکھ رکھے ہیں، شاید سوشل میڈیا پر نئی نسل کی نظروں کے سامنے سے بھی یہ روح فرسا مناظر گزرے ہوں‘ مگر ان تصاویر میں قید مناظر کے پیچھے چھپا درد صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جو ان حالات سے دوچار ہوا ہو۔ قوم کو شاید وہ منا ظر بھی اکثر دیکھنے کو ملتے رہے جن میں پیدل‘اور بیل گاڑیوں پر سوار لٹے پٹے قافلے بھارت سے لاہور کے واہگہ اور قصور کے گنڈا سنگھ بارڈر کی جانب امڈتے چلے آ رہے تھے ۔ ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے محافظوں کو طعنے دینے والوں اور قوم کی پیٹھ میں الفاظ کا چھرا گھونپنے والوں کو کیا خبر کہ یہ ملک کیسے حاصل کیا گیا، اس کی سرحد‘ اس کا بارڈر محض لکیریں نہیں بلکہ لاکھوںshaheedoN کے مزار ہیں جن کے اثرات و برکات آج بھی اس ملک پر سایہ فگن ہیں۔ لندن کے پُرتعیش فلیٹوں میں رہنے والوں کو کیا خبر کے وہ کیا حالات ہوتے ہیں جب خیمے کا کپڑا کاٹ کر تن ڈھانپا جاتا ہے۔ اس وقت جہاں قیام پاکستان کے وقت کے ان پانچ لاکھ سے زائد مرد و خواتین کی shahadaton کو یادکرنا ہے‘ وہیں اس ملک اور اس کے وقار کو روندنے سے بچانے والوں کو احترام دینے کے ساتھ ساتھ اس دھرتی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے سیاسی بدعنوانوں کا احتساب بھی کرنا ہو گا جنہوں نے ہمارے وطن عزیز کے حسن کو پامال کر کے رکھ دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں