تیسری مخلوق نہیں ہوتی : خواجہ سرا یا مرد ہوتا ہے یا عورت ۔۔۔۔کچھ خواجہ سراؤں کو ماہانہ 10 ہزار روپے کی دوا کیوں کھانا پڑتی ہے ؟ ایک معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) کل کی ایک خبر ہے”حکومت نے خواجہ سرائوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے انہیں تعلیمی اداروں میں ترجیحی بنیادوں پر داخلے‘ مفت کتابیں اور فیس میں خصوصی رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے”۔ خواجہ سرائوں کیلئے ملازمتوں میں بھی کوٹہ مقرر ہے۔ عمومی طورپرایسی مراعات یا رعایات کا حقدار

معذور افراد کو بھی گردانا جاتا ہے۔ نامور کالم نگار فضل حسین اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔لوگ بھی خُدا ترسی کے تحت ایسا کرتے ہیں مگر ہیجڑے تو معذور نہیں ہیں۔انہیں تیسری مخلوق کا نام دیا جاتا ہے۔کوئی تیسری جنس کہہ کر انہیں تضحیک کا نشانہ بناتا ہے۔ معاشرے میں انہیں برابری کا شہری تسلیم کرنے سے عمومی گریزموجود ہے۔کوئی بھی پیدا ہونیوالا بچہ اپنی جنس کا خود تعین نہیں کر سکتا۔گزشتہ دنوں برتھ ڈیفیکٹ فائونڈیشن کے آفس جانے کا اتقاق ہوا۔ اسکے صدرعنصر جاوید خان ہیں۔ انہوں نے ‘تیسری مخلوق’ کے حوالے سے کچھ انکشافات کرکے حیران کر دیا۔ جدیدتحقیق کے مطابق تیسری مخلوق یا تیسری جنس کا کہیں کوئی تصور نہیں ہے۔ نہ کسی مذہب اور نہ سائنس میں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے ’’ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے۔‘‘ مرد اور عورت کا جوڑا ہے۔ ہیجڑوں کا کوئی فطری جوڑا نہیں۔اصل میں تیسری جنس کا وجود ہی نہیں، جنس مرد ہے یا عورت۔ کوئی ہیجڑا‘ خواجہ سرا،کھسرا پیدا نہیں ہوتا۔ لڑکی پیدا ہوتی ہے یا لڑکا پیدا۔البتہ کسی کی جنسی شناخت نہیں ہو پاتی۔ کئی والدین بھی ایسے بچوں کی شناخت چھپا کے رکھتے ہیں۔ کئی رضائے الٰہی سمجھ کر ان بچوں کو گروئوں کے حوالے کر دیتے ہیں جو کہیں مانگتے پھرتے ہیں، کہیں گاتے اور کہیں ناچتے ہیں۔ کئی پڑھ لکھ بھی جاتے ہیں مگر مجموعی یا عمومی طور پر یہ بچے معاشرے کے رویوں کے باعث دیدۂ عبرت ہوتے ہیں۔ آج کے جدیددور میںپیدائشی طور چھپی ہوئی جنس کو میڈیکل سائنس کے ذریعے واضح کیا جا سکتا ہے

اور کیا جا رہا ہے۔برتھ ڈیفیکٹ فائونڈیشن پیدائشی 18 نقائص کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان میں دل میں سوراخ، ہونٹ ، تالو کا کٹا ہونا، ریڑھ کی ہڈی پر پھوڑا ، ٹیڑھے پائوں ، مرگی ، تھیلیسیمیا ، بھینگا پن اور جنس کی عدم شناخت وغیرہ شامل ہیں۔ برتھ ڈیفیکٹ فائونڈیشن سے پروفیسر ڈاکٹر مرزا لیاقت بھی وابستہ ہیں وہ کہتے ہیں۔” میرا شعبہ ہے۔ مریضوںکی ابتدائی جانچ پڑتال کرنے کے بعدانکی ہارمون تھراپی کر کے جنس کو واضح شناخت میں لے کر آنا ہے۔ قرآن پاک میں ذکر ہے ہم نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ، کسی جگہ خواجہ سرا کا ذکر نہیں۔ دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ہم نے سوائے موت کے ہرچیز کا علاج رکھا ہے۔ میں بطور اینڈوکرائنالوجسٹ وثوق کہتا ہوں تمام خواجہ سرائوں کی جنس ہم واضح کر دیتے ہیں۔ جس کے بعد وہ لڑکا یا لڑکی بن کر زندگی گزارے” ۔ ڈاکٹر محمد افضل شیخ کا کہنا ہے”: جس گھر میں نقائص والے بچے پیدا ہوتے ہیںانکے والدین کے سامنے تین سوال ہوتے ہیں‘ کیا یہ قابل علاج ہے؟ ہمارے معاشرے میں شعور و آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے انہیںمعلوم نہیں ہوتا کہ یہ قابل علاج مرض ہے۔ دوسرا سوال ، اگر علاج ہے تو کدھر ہو سکتا ہے؟ ہمارے ہاں لوگوں کو صحیح علاج گاہ کا بھی پتہ نہیں ہوتا ۔ تیسرا سوال ، اگر علاج ہو سکتا ہے تو خرچ کتنا آئیگا؟ اخراجات کا خوف بھی والدین کو علاج نہ کروانے کیلئے مجبور کرتا ہے۔ مختصر عرصے میں اس جنس کے 118 بچوں کا آپریشن کر کے نارمل لڑکیاں لڑکے بنایا جا چکا ہے”۔

برتھ ڈیفیکٹ فائونڈیشن پورے ملک میں کام کرتی ہے۔ اس کا سلسلہ لوگوں کے عطیات اور صدقات پر چلتا ہے۔ پاکستان میں کارِخیر میں حصہ لینے والوں کی کمی نہیں۔ ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹاف بغیر معاوضے کے اس این جی او کے ساتھ چل رہے ہیں۔ دیگر پیدائشی نقائص کا علاج برتھ ڈیفیکٹ فائونڈیشن دس سال سے کر رہی ہے۔ جنسی شناخت نہ رکھنے والے بچوں اور بڑوں کو شناخت دینے کا کام 3 سال سے جاری ہے۔ سرکاری ہسپتال بھی ان سے تعاون کرتے ہیں۔ جس روز میں لاہور میںعلامہ اقبال ٹائون 96 خیبر بلاک ان کے آفس گیااس روز اسلام آباد سے طاہرہ جاوید چودھری آئی ہوئی تھیں۔ وہ اس این جی او کی بڑی ڈونیٹر اور سرگرم ورکر ہیں۔ کچھ عنصر جاوید اور کچھ طاہرہ صاحبہ نے بریف کیا۔اسی روز کچھ بچے اپنے والدین کے ساتھ بھی آئے ہوئے تھے۔اس علاج میں چھ سے دو سال لگتے ہیں۔جس خاندان میں ایسا بچہ یا بڑا ہو اس خاندان کو موٹیویٹ کرنا بھی ضروری ہے۔ ایک انسان جو قدرتی طور پر لڑکی ہو اور اسکی جنسی شناخت معدوم ہو چکی ہوتی ہے۔ اپریشن کے بعدمکمل لڑکی بن جانے سے اسے زندگی بھر ماہانہ دس ہزار روپے کی دوا کھانی پڑتی ہے۔ برتھ ڈیفیکٹ فائونڈیشن جرمن سے برآمدہ یہ میڈیسن فری فراہم کر رہی ہے۔ شناخت واضح یا وضع ہو جانے کے بعدکئی خوشگوار زندگی بسر کر رہے ہیں۔گلیوں ، بازاروں ، چوکوں، چوراہوں میں کھسرے بن کر مانگنے ، ناچنے گانے والے قطعی طور پر تیسری مخلوق یا تیسری جنس نہیں ہیں وہ مرد ہیں یا عورتیں جس سے اکثر خود بھی واقف نہیں۔ وہ خود اس سنٹر میں آ جائیں یا انکے عزیز رشتے دار انہیں لے جائیں۔ اس فیلڈمیں انسانی خدمت کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ہیجڑوں کے حقوق اور مراعات کے حوالے سے قانون سازی ہو چکی ہے۔ کیا اسکی ضرورت تھی یا ہے؟ یہ سب لاعلمی میں ہو چکا ہے جب تیسری مخلوق اور ہیجڑے کھسرے کا تصور ہی نہیں تو قانونی مراعات رعایات کا سوال ہی نہیں رہتا۔ پیدائشی نقائص دور کرنے کیلئے ایک مکمل ہسپتال اس این جی او کی ضرورت ہے۔ اہل دل کسی بھی شہر میں ہسپتال کیلئے زمین فراہم کر کے یہ ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ مختلف عمروں کے لوگ ان میں 40 سے 50 سال کے بھی ہیں اور تعلق پسماندہ اور وزیرستان تھرپارکر جیسے دور دراز علاقوں سے ہے ان کو جنس کی شناخت کی ضرورت ہے مگر وہ لاہور نہیں آ سکتے پورے ملک میں 24 سنٹر بن جائیں تو ملک کے ہر حصے کے مریض استفادہ کر سکتے ہیں۔ یہ کام مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔ بے شناخت انسانوں کے الٹرا سائونڈ کیلئے سپیشل مشین ہوتی ہے اسکی لاگت22 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ تعاون،پیدائشی نقائص کے علاج اور جنس کی شناخت کیلئے03369276004 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں