پانی کی بوتل کو دوبارہ بھر کر اس کا پانی پینے کا ایسا سنگین نقصان سامنے آ گیا کہ کسی نے سوچا تک نہ ہو گا، خطرناک انکشافات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پلاسٹک کی بوتل کو دوبارہ پانی بھر کر پینا انتہائی خطرناک ہے۔ آج کل ہر شخص بہت ہی مصروف ہے، اس مصروفیت میں لوگ عموماً اپنے پاس پانی پینے کے لیے پلاسٹک کی بوتل رکھتے ہیں، ملازم پیشہ لوگ جب ایک پانی کی بوتل خریدتے ہیں تو وہ اس کا استعمال کئی دن تک کرتے ہیں،

اس میں دوبارہ پانی بھر کر پیتے رہتے ہیں، یہ عمل انتہائی خطرناک ہے، ایک ٹیسٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پانی کی استعمال شدہ بوتل میں جراثیم کی 9 لاکھ کالونیاں ہوتی ہیں، چند کھلاڑیوں کی پانی کی بوتلوں پر تحقیق کی گئی، معائنہ کے بعد پتہ چلا کہ ان بوتلوں میں ٹوائلٹ سیٹ سے زیادہ جراثیم موجود ہیں۔ ڈاکٹر میریلن گلین ول نے بتایا کہ پلاسٹک کی بوتل چند کیمیکلز ایسے ہیں جو جسم کے تقریباً ہر حصے کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ڈاکٹر میریلن گلین ول کا کہنا ہے کہ اپنی بوتل کو دوبارہ استعمال نہ کریں لیکن اگر بہت ہی ضروری ہو اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو تو کم سے کم اسے گرم پانی سے ہرگز نہ دھوئیں۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق برطانیہ میں 2030 سے ڈیزل اور پیٹرول پر چلنے والے نئی گاڑیوں کی فروخت پر پابندی عائد کردی جائے گی۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ 2040 سے ڈیزل اور پیٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کی فروخت پر پابندی عائد کردے گی تاہم بعد میں یہ ڈیڈ لائن 2035 کردی گئی اور اب 2030 کی جارہی ہے۔اس حوالے سے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن آئندہ ہفتے اپنی ماحولیاتی پالیسی کے حوالے سے تقریر میں باضابطہ اعلان کریں گے۔برطانوی حکومت کا یہ قدم گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے بعض ہائبرڈ گاڑیاں 2035 تک مستثنیٰ قرار دی جاسکتی ہیں کیوں کہ وہ برقی اور تیل سے حاصل کردہ توانائی کا استعمال کرتی ہیں۔ڈیزل اور پیٹرول سے چلنے والی نئی گاڑیوں کی فروخت سے برطانیہ کی کار سازی کی صنعت میں ایک بہت بڑی تبدیلی رونما ہوگی، اس صنعت سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق رواں برس فروخت ہونے والے گاڑیوں میں سے 73 اعشاریہ 6 فیصد گاڑیوں ڈیزل اور پیٹرول انجن والی تھیں جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت محض 5 اعشاریہ 5 فیصد رہی کیوں کہ وہ اس وقت کافی مہنگی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں