اسلام مخالفت عروج پر پہنچ گئی۔۔۔نماز سمیت مسلمانوں کی طرز زندگی پر بڑی پابندی لگا دی گئی

لاہور ( ویب ڈیسک)انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی صدر محمدناصراقبال خان،اور دیگر لوگوں نے کہا ہے کہ آسٹریا میں باجماعت نمازپرپابندی کا انتہائی اقدام تعصب اورنفرت پرمبنی ہے،عالمی ضمیرپوری طاقت کے ساتھ اس فیصلے کو مسترد کردے۔جدیددنیا اِسلام سمیت کسی دین کیخلاف اس قسم کے متعصبانہ، عاقبت نااندیشانہ ،آمرانہ اقدامات کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔آسٹریا نے اقوام متحدہ کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں بکھیردیں۔

آسٹریاسمیت دنیا کاکوئی ملک مذاہب کے درمیان نفرت کی دیوار تعمیرکرنے کاحق نہیں رکھتا۔آسٹریا حکومت اپنا جانبدارنہ فیصلہ فوری واپس لے ورنہ مسلمانوں میں مزید اشتعال انگیزی پیداہوگا۔فرانس میں توہین آمیز خاکے منظرعام پرآنے کے بعد آسٹریاحکومت نے اسلام کیخلاف طبل واربجادیا ۔حجاب اوڑھنا مسلمان خواتین اورباجماعت نمازاداکرنامسلمان مردحضرات کابنیادی حق ہے جوسلب نہیں کیا جاسکتا۔وہ ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔مقررین نے مزید کہا کہ دنیاکاکوئی باشعوراورباضمیرانسان آسٹریاحکومت کے حالیہ کالے قانون کیخلاف خاموش نہیں رہ سکتا ۔ فرانس کے بعدآسٹریاکااسلام دشمن اقدام انسانیت پربدترین اٹٰیک کے مصداق ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی مغربی ملک میں مقیم کوئی مسلمان جانے انجانے میں کوئی غلطی کردے تواس کی سزا دین فطرت اسلام کونہیں دی جاسکتی ۔یورپی ملک یادرکھیں وہ اسلام کیخلاف سازشوں کے بل اپنے شہریوں کودائرہ اسلام میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتے۔انہوں نے کہا کہ کافر ملک جس قدر اسلام کودبانے کی سازش کریں گے یہ دین فطرت اس قدر ابھرے گا۔ اسلام نے مسلم خواتین کیلئے پردہ فرض قراردیا ہے لہٰذاء آسٹریا سمیت کوئی ملک ان سے حجاب کاحق نہیں چھین سکتا۔آسٹریااورفرانس کے باشعور عوام اپنے اپنے حکمرانوں کیے یخلاف آوازبلندکریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں