پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی جان بوجھ کر بھارتی فوج میں کمزور جوانوں کو بھرتی کر روا رہی ہے

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت مضحکہ خیز اور بھونڈے دعوے کرنے میں سب سے آگے ہے ، اور اگر بات پاکستان یا پاکستان کی خفیہ ایجنسی پر الزامات عائد کرنے کی ہو تو بھارت کسی منطق کے بغیر ہی بیان بازی شروع کر دیتا ہے اور یہی حال بھارتی میڈیا کا بھی ہے جو اپنی حکومت کی ایما پر ایسی ایسی رپورٹس بناتا ہے

جس سے نہ صرف بھارت کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوتی ہے بلکہ بھارتی میڈیا کی عالمی سطح پر کریڈیبلیٹی بھی متاثر ہوتی ہے۔ تاہم اب بھارتی میڈیا نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی پر ایک بھونڈا الزام عائد کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ملٹری انٹیلی جنس اور اُتر پردیش پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے ایک ایسا نیٹ ورک بے نقاب کیا جس میں ایک سابق فوجی، دو پولیس اہلکار اور پانچ دیگر لوگ شامل ہیں۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس گروپ نے گذشتہ دو سالوں کے دوران کئی جوانوں کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بھارتی فوج میں نوکریاں دلوائیں۔ تفتیشی افسران کو اس بات کا شُبہ ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی یا پھر ملک دشمن کوئی اور عناصر اس نیٹ ورک کو چلا رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ فی الوقت پولیس نے ایک سابق فوجی ، ایک پولیس اہلکار اور تین مزید افراد کو گرفتار کیا ہے۔ سینئیر پولیس افسران اور ملٹری انٹیلی جنس کے نمائندوں کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے نوکریاں حاصل کرنے والے جوانوں کی تعداد 21 ہے۔

اُترپردیش پولیس نے انٹیلی جنس بیورو کی مدد سے اُن چار اضلاع میں جنوری 2019ء سے بھرتی کیے جانے والے جوانوں کی دوبارہ تصدیق کا عمل شروع کر دیا ہے جہاں یہ نیٹ ورک متحرک تھا۔ بریلی رینج کے ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ ہم نے انٹیلی جنس بیورو اور دیگر سکیورٹی ایجنسیز کو بھی اس معاملے پر تحقیقات کرنے کا کہا ہے۔ میں اس کیس کو مانیٹر کر رہا ہوں اور تمام ایجنسیوں سے رابطے میں ہوں۔ پریس کانفرنس کے دوران ایس ایس پی شاہ جہاں پور نے کہا کہ نیٹ ورک میں ملوث افراد نوجوانوں کی بھرتیوں کی مد میں بھاری رقم بھی وصول کر رہے تھے۔ ہم نے گرفتار افراد سے 23 جعلی سرکاری مہریں بھی برآمد کی ہیں۔ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور اس میں کسی کو بھی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نیٹ ورک میں آئی ایس آئی یا کسی دوسری ملک دشمن ایجنسی کے ملوث ہونے کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں