21 ارب نہیں بلکہ ۔۔۔۔ پاکستانی سیاست کے رئیس نواب اسلم رئیسانی دراصل کل کتنی مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں؟ بی بی سی نے اصل حقیقت ڈھونڈ نکالی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) نواب اسلم رئیسانی کے بھائی لشکری رئیسانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بھائی نے 21 ارب نہیں بلکہ 21 کروڑ کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔اس سے پہلے بی بی سی اور مقامی میڈیا نے

بھی یہ خبریں شائع کی تھیں کہ نواب اسلم رئیسانی نے 21 ارب کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔پاکستان کی پارلیمان (سینیٹ اور قومی اسمبلی) کے اراکین کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بدھ کو پنجاب اور بلوچستان کے ارکان اسمبلی کے اثاثوں کی تفصیلات بھی جاری کی تھیں۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اسلم رئیسانی ماضی میں اپنے اس بیان کی وجہ سے سرخیوں میں رہے تھے کہ ’ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا جعلی۔‘ لیکن ان کے اثاثے اصلی ہیں اور انھوں نے اس کے دستاویزی ثبوت بھی پیش کیے ہیں۔یہ اثاثے بلوچستان سے لے کر اسلام آباد اور کراچی کے ساحل سے لے کر مالٹا کے دلکش سیاحتی مقامات تک پھیلے ہوئے ہیں۔نواب رئیسانی کے پاس تین کروڑ روپے سے زائد مالیت کی آٹھ گاڑیاں بھی ہیں۔وہ اکثر اسلام آباد کی سڑکوں پر تیز رفتار ہیوی بائیکس بھی دوڑاتے نظر آتے ہیں۔ نواب رئیسانی کے پاس 23 لاکھ روپے مالیت کی بکریاں، بھیڑیں اور دیگر جانور بھی ہیں۔نواب رئیسانی نے مالٹا میں ایک کروڑ روپے سے زائد کی جائیداد بتائی ہے۔نواب اسلم رئیسانی نے اپنے گوشواروں میں لکھا ہے کہ ان کی اہلیہ کے پاس سونے کے ’بہت ہی پرانے زیورات‘ ہیں جو وہ استعمال کر رہی ہیں اور ان کا کل وزن 120 گرام بنتا ہے۔اسلم رئیسانی کے اثاثوں میں زرعی زمین، رہائشی جائیداد، کان کنی کی کمپنی، گاڑیاں، بینک اکاؤنٹس اور مال مویشی شامل ہیں۔ ماضی میں قومی احتساب بیورو بھی ان سے ان کے اثاثہ جات کے بارے میں جواب طلبی کر چکا ہے۔بلوچستان پاکستان کا سب سے غریب صوبہ سمجھا جاتا ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کے اکثر ارکان کے اثاثوں میں مہنگی گاڑیاں شامل ہیں۔ ان اراکین کی اکثریت نوابوں، سرداروں اور مذہبی پیشواؤں پر مشتمل ہے۔الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق ان اراکین کے کل اثاثوں کی قیمت کروڑوں اور اربوں میں ہے۔ تاہم ان ارکان کی اکثریت کا موقف ہے کہ ان کے یہ اثاثے وراثتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں