ہزاروں سال پہلے جدید ٹیکنالوجی کے بغیر اہرام مصر کیسے تعمیر کیے گئے؟ ماہر آثار قدیمہ نے دلچسپ دعویٰ کر دیا

قاہرہ(ویب ڈیسک) اہرام مصر آج کے جدید ماہرین تعمیرات کو بھی ورطہ حیرت میں ڈالے ہوئے ہیں کہ آخر 4500سال پہلے کاریگروں نے کیسے ایسی شاندار اور محیرالعقول عمارت تعمیر کر لی۔ تاہم اب ایک امریکی انجینئر نے ان اہرام میں بھی ایک خامی تلاش کر لی ہے اور اس کی بنیاد پر یہ بھی بتا دیا ہے کہ قدیم زمانے میں آج کی

جدید ٹیکنالوجی کے بغیر کیسے یہ اہرام تعمیر کیے گئے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق امریکی ماہرآثار قدیمہ اورماہر تعمیرات گلین ڈیشن نے اہرام کی پیمائش کے بعد بتایا ہے کہ یہ عمارت مکمل چوکور نہیں ہیں بلکہ اس کی مغربی سمت مشرقی سمت سے تھوڑی سی بڑی ہے۔ دونوں سمتوں میں ساڑھے پانچ انچ کا فرق ہے۔پیمائش میں اس خامی کے باوجود اہرام کی تمام دیواریں پوری طرح ایک دوسری کے ساتھ فٹ ہیں اور بظاہر ان میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔گلین ڈیش کا کہنا تھا کہ ’’یہ خامی تینوں اہرام میں موجود ہے اور ان تینوں کو کارڈینل پوائنٹس سے گھڑی کی مخالف سمت میں تھوڑا سا گھمایا گیا ہے۔ اس خامی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے کے کاریگروں نے ان عمارتوں کی اس قدر مہارت سے پیمائش ’پول سٹار‘ اور یا پھر سورج کے سائے کے ذریعے کی تھی۔ہم جانتے ہیں کہ زمین اپنے محور پر جھکی ہوئی ہے جس کا مطلب ہے کہ جب زمین سورج کے گرد چکر لگاتی ہے تو ستارے قطب شمالی اور قطب جنوبی کو روشنی دیتے ہیں۔ تاہم سال میں دو مواقع پر سورج قطب شمالی اور قطب جنوبی کو برابر روشنی دیتا ہے۔ ان مواقع کو ایکوئنوکس (Equinox)کہا جاتا ہے۔ انہی مواقع پر قدیم مصری ماہرین نے سورج کے سائے کے ذریعے پیمائش کرتے ہوئے اس مہارت کے ساتھ یہ عمارتیں کھڑی کیں۔‘‘ ان مواقع کو ایکوئنوکس (Equinox)کہا جاتا ہے۔ انہی مواقع پر قدیم مصری ماہرین نے سورج کے سائے کے ذریعے پیمائش کرتے ہوئے اس مہارت کے ساتھ یہ عمارتیں کھڑی کیں۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں