پنجاب حکومت کا شاندار اقدام :خواجہ سراؤں کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے لیے زبردست اعلان کردیا گیا ، عملی اقدامات شروع

لاہور(ویب ڈیسک)پنجاب حکومت نے خواجہ سراؤں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے انہیں تعلیمی اداروں میں ترجیحی بنیادوں پر داخلے، مفت کتابیں اور فیس میں بھی خصوصی رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔تعلیمی اداروں میں خواجہ سراؤں کو ترجیحی بنیادوں پر داخلے دینے کے لیے پنجاب اسمبلی میں رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق

محکمہ ہائر ایجوکیشن ٹرانس جینڈر پرسن پروٹیکشن آف رائٹس ایکٹ 2018 کے تحت تعلیمی اداروں میں خواجہ سراؤں کو داخلے دیرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محکمہ ہائر ایجوکیشن تعلیمی اداروں میں فیس کی رعایت اور مفت کتب بھی فراہم کرے گا۔قبل ازیں بنگلہ دیش میں مسلمان خواجہ سراؤں کے لیے پہلے مدرسے کا افتتاح کر دیا گیا۔اس مدرسے کو دارالحکومت ڈھاکا کے مضافات میں عبدالرحمٰن آزاد کی سربراہی میں علماء کے ایک گروپ نے مقامی چیریٹی کی مدد سے قائم کیا۔ تین منزلہ عمارت کی چھت بنے اس مدرسے کو دعوت الاسلام ٹریٹیولِنگر یا اسلامک تھرڈ جینڈر اسکول کا نام دیا گیا ہے۔مدرسے کے افتتاح کے موقع پر50 سے زائد خواجہ سرا طلباء نے قرآنی آیات تلاوت کی۔عبدالرحمٰن آزاد کی جماعت پہلے ہی ڈھاکا میں 7 خواجہ سراؤں کو قرآنی تعلیمات دے رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اب اس طبقے کے لیے مستقل مدرسے کی ضرورت ہے۔اسکول افتتاح کے موقع پر علماء کا غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کے لیے کھولے گئے اسکول میں 150 کے قریب بالغ خواجہ سرا قرآنی علوم کے ساتھ ساتھ میں اسلامی فلسفہ، بنگالی، انگلش، حساب اور سوشل سائنسز جیسی ضروری تعلیمات بھی حاصل کرسکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں