اگر واقعی ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے انکار کر دیا تو پھر کیا ہو گا ؟ امریکی قانون کیا کہتا ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجمان نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب 2020 میں جو بائیڈن کی فتح کے خلاف قانونی لڑائی ’صرف شروعات ہے۔‘وائٹ ہاؤس میں پریس سیکریٹری کے مطابق ’الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور ہے۔ یہ ختم نہیں ہوا۔‘انھوں نے بغیر شواہد کے انتخاب میں بے ضابطگیوں کا دعویٰ

کیا ہے۔ بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔ تاحال منظم دھاندلی کے ثبوت نہیں مل سکے اور یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ نتائج پر اثر ڈالا گیا۔رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ نے صدارتی دوڑ میں ہار تسلیم نہیں کی۔امریکہ کی 244 سالہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک صدر نے الیکشن ہارنے کے بعد وائٹ ہاؤس نہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہو۔امریکہ کی جمہوریت اسی اصول پر قائم سمجھی جاتی ہے کہ یہاں اقتدار ایک فرد سے دوسرے فرد تک قانون کے تحت اور پُرامن انداز میں منتقل ہوجاتا ہے۔اسی وجہ سے صدر ٹرمپ کے اعلان نے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ مبصرین اب ایسے حالات پیدا ہونے سے متعلق اپنی رائے دے رہے ہیں جس کا گمان پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس قانونی حق اور وسائل ہیں کہ وہ ووٹنگ کے نتائج کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ مستقبل قریب میں انھیں عدالتوں میں شواہد کی بنیاد پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ’الیکشن میں فراڈ ہوا‘ ہے لیکن اب تک انھوں نے کسی ثبوت کے بغیر یہ دعویٰ کیا ہے۔اگر وہ 20 جنوری تک ایسا نہ کرسکے تو نئے صدر کا اعلان ہوجائے گا اور ٹرمپ کو دفتر چھوڑنا ہوگا۔ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران واضح طور پر کہا تھا کہ وہ اپنے اعتراضات کی بنیاد پر ’شکست تسلیم نہیں کریں گے۔‘انھوں نے بارہا کہا تھا کہ الیکشن حکام جو مرضی کہیں وہ صدر کے منصب پر قائم رہیں گے۔ انھوں نے عندیہ دیا تھا کہ وہ صرف اس صورت میں ہار سکتے ہیں

اگر الیکشن ’چوری کیا گیا ہو۔‘تو اس سب کے پیش نظر ملک میں اس بارے میں بحث جاری ہے کہ ایسے حالات میں کیا ہوگا اگر ٹرمپ صدر برقرار رہنے کا خود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں۔اس ممکنہ صورتحال کے مفروضے پر جو بائیڈن سے بھی پوچھا گیا تھا۔11 جون کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کامیڈین ٹریور نواح نے بائیڈن سے اس بارے میں پوچھا تھا۔ اس کے جواب میں بائیڈن نے کہا تھا کہ ’ہاں میں نے اس بارے میں سوچا ہے۔’مجھے یقین ہے کہ ایسی صورتحال میں فوج انھیں دفتر میں رہنے سے روکے گی اور آسانی سے انھیں وائٹ ہاؤس نے نکال دے گی۔‘بائیڈن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ووٹرز نے کرنا ہے، نہ کہ امیدواروں نے کہ انتخاب کے نتائج کیا ہوں گے۔ انھوں نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’امریکی عوام اس انتخاب کے نتائج طے کرے گی۔ امریکہ کی حکومت اس قابل ہے کہ وائٹ ہاؤس میں موجود کسی گھس بیٹھیے کو باہر نکال سکے۔‘ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کام امریکی مارشلز یا سیکرٹ سروس کے پاس جائے کہ وہ ٹرمپ کو صدارتی رہائش گاہ سے باہر لے آئیں۔سیکرٹ سروس ایک سویلین ادارہ ہے جو صدر کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ قانون کے تحت اسے تمام سابق صدور کو بھی محفوظ رکھنا ہوتا ہے اور وہ 20 جنوری کے بعد بھی ٹرمپ کو یہ سروس فراہم کریں گے۔جب سے بائیڈن نو منتخب صدر بنے ہیں، سیکرٹ سروس نے ان کی تحفظ بھی بڑھا دیا ہے۔ حکام کے مطابق اب ان کا تحفظ کسی صدر جتنا ہی ہے،

اس بات سے قطعہ نظر کے ٹرمپ نے زور دیا ہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار الیکشن ہار چکے ہیں۔سب سے پیچیدہ صورتحال اس وقت پیدا ہوسکتی ہے کہ اگر صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے انکار کردیتے ہیں اور یہ رویہ جاری رکھتے ہیں۔بی بی سی نے ماہرین سے دریافت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر ٹرمپ نے اپنی صدارت برقرار رکھنے کے لیے ریاستی فورسز کو استعمال کیا تو پھر کیا ہوگا۔پروفیسر ڈکوٹا روڈسل امریکہ میں قومی سلامتی کی پالیسی اور قانون سازی کے ماہر ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اقتدار میں رہنے کے لیے اگر ایک صدر بظاہر شکست کے بعد بھی اپنی طاقتوں کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو اس سے اہم (جمہوری) روایات تباہ ہوجائیں گی۔‘وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ایسا ہونا ’ناقابل فہم نہیں۔‘وہ کہتے ہیں ’اس سے ملک، سول ملٹری تعلقات کے اہم اصولوں اور عالمی سطح پر جمہوریت کے تصور کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ان کی رائے میں ایسا ہونے کے امکانات بہت کم ہیں کہ ٹرمپ صدارت سے جڑے رہیں گے اور انھیں فورسز کی حمایت حاصل ہوگی۔’فوجی اہلکار آئین سے وفاداری کا حلف لیتے ہیں، نہ کہ کسی سیاستدان سے وفاداری کا جو اُس وقت اقتدار میں ہو۔ ملک میں سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز فوجی اہلکار، جوائنٹ چیفس آف سٹاف چیئرمین جنرل مارک ملی نے بارہا کہا ہے کہ امریکی انتخاب میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔‘سیاسی امور کے ایک ماہر نے بتایا ہے کہ ’میں نے اس بارے میں لکھا کہ صدر ٹرمپ ایک صدارتی حکمنامہ استعمال کر سکتے ہیں یا ان کے حامیوں کے زیر اثر محکمۂ قانون ایک حکم جاری کر سکتا ہے۔ اس سے عندیہ ملے گا کہ انتظامیہ ٹرمپ کو اس متنازع انتخاب کا فاتح سمجھے۔‘وہ کہتے ہیں کہ یہ ’بالکل غلط اور ناقابل منظور ہوگا‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’20 جنوری کی شام کے بعد بھی اگر فوج کو حکم دیا جاتا ہے کہ صدر کو سیلوٹ کریں تو اس سے فوج ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہوجائے گی۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں