پاکستان ریلوے کا کراچی میں ’سرکلر ریلوے ‘ بحال کرنے کا فیصلہ! جدید بوگیاں شہرِ قائد پہنچ گئیں، تاریخ کا اعلان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سپریم کورٹ میں ریلوے خسارہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے بعد پاکستان ریلوے نے کراچی سرکلر ریلوے کو بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلوے نے 16 نومبر سے کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کو مرحلہ وار بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پہلے مرحلے میں کے سی آر کو لانڈھی سے اورنگی تک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔سرکلر ریلوے کے اوقات صبح 7 سے10 اور دوپہر ایک سے 4 بجے ہوں گے، روزانہ 4 ٹرینیں پپری اور 4 اورنگی سے روانہ کی جائیں گی ۔

مکمل سفر 60 کلو میٹر کا کرایہ 50 روپے ہو گا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ میں ریلوے خسارہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا تھا کہ بتائیں کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ کیوں فعال نہیں ہوا؟ عدالت نے ڈی جی ایف ڈبلیو او کو بھی ذاتی حیثیت سے پیش کر کو وضاحت کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کہا کہ اب بات یہاں تک نہیں رکے گی اب سب کو بلائیں گے،اگر ضرورت پڑی تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ کو بھی بلا لیں گے۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ سیکرٹری ریلوے اور چیف سیکرٹرین توپین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔عدالت نے سیکرٹری ریلوے اور چیف سیکرٹری سندھ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس پاکستا نے ریلوے خسارہ از خود نوٹس کیس کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔20 اگست کو سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کراچی حیدرآباد برج کسی بھی وقت گر سکتا ہے، کوٹری میں انگریز کا بنایا ہوا پٴْل آج بھی درست حالت میں ہے، دریائے سندھ پر کوئی ایسا پل نہیں جس پر قوم فخر کر سکے، ایوب خان کے دور میں بننے والا ایوب برج واحد خوبصورت پٴْل ہے، ایوب برج کے بعد ملک میں جتنے بھی پٴْل بنے سب گندے بنائے گئے، ایم ایل ون کیلئے اچھے برج بنائے جائیں،دریائے سندھ ملک کی اکانومی چلاتا ہے اسکو عزت دیں، سماعت کے دوران سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل ون میں سٹیٹ آف دی آرٹ پٴْل بنائے جائیں گے، ایم ایل ون کا پیکج ون تین سال میں مکمل ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں