ریاست جونا گڑھ کی پاکستان سے الحاق کی خواہش، نواب آف جونا گڑھ کا بڑا اعلان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) ریاست جونا گڑھ کے نواب محمد جہانگیر خانجی نے کہا ہے کہ نواب آف جونا گڑھ اور پاکستان ایک پیج پر ہیں، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھارت کے جونا گڑھ پر غیر قانونی تسلط کے خاتمہ کے لئے اپنا موثر کردار ادا کریں، جونا گڑھ کی آزادی

تک سیاسی، سفارتی اور قانونی محاذوں پر جدوجہد جاری رکھیں گے۔ان خیالات کا اظہار پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں یوم سقوط جونا گڑھ کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مسلم انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ صاحبزادہ سلطان احمد علی اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر بیرسٹر فرخ قریشی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ نواب آف جونا گڑھ محمد جہانگیر خانجی نے یوم سقوط جونا گڑھ کو یوم سیاہ سے منسوب کرتے ہوئے اس اہم قومی دن کے موقع پر پریس کانفرنس کے انعقاد کی سہولت فراہم کرنے پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز، سیکرٹری اطلاعات و نشریات زاہدہ پروین اور وزارت اطلاعات و نشریات کے دیگر افسران کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد نہ صرف جونا گڑھ کے عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی ہے بلکہ پوری قوم کو جونا گڑھ کی تاریخ سے آگاہ کرنا بھی ہے جو پاکستان کا تاریخی حصہ ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جوناگڑھ پہلی شاہی ریاست تھی جس نے پاکستان سے باقاعدہ الحاق کیا، 15 ستمبر 1947 کو نواب آف جونا گڑھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، میرے دادا نواب مہابت خا نجی امور ریاست کے سلسلہ میں کراچی آئے ہوئے تھے کہ بھارت نے ان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاست پر فوجی دھاوا بول کر غیر قانونی تسلط جما لیا۔انہوں نے کہا کہ جونا گڑھ قانونی طور پر ابھی بھی پاکستان کا حصہ ہے اور اس کا مقدمہ اقوام متحدہ میں ہے، جونا گڑھ ابھی بھی انصاف کا منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جونا گڑھ کمیونٹی نے پاکستان میں کاروبار کو فروغ دیا آج بھی پاکستانی بزنس کمیونٹی کے بڑے نام

جونا گڑھ سے تعلق رکھتے ہیں، 70 کی دہائی تک جونا گڑھ کا مسئلہ زندہ رہا پھر اسے بھلا دیا گیا اسے از سر نو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش کے مطابق ریاست جونا گڑھ کو پاکستان کے نقشے میں شامل کرنے پر ہم حکومت پاکستان کے مشکور ہیں جس سے ہماری جدوجہد کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی کہ جس طرح وہ پوری دنیا میں کشمیری عوام کا سفیر بن کر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر رہے ہیں، اسی طرح ریاست جونا گڑھ کے سفیر بن کر اقوام متحدہ اور دنیا کے سامنے جونا گڑھ کا مقدمہ پیش کریں۔ نواب آف جونا گڑھ نے کہا کہ عالمی سطح پر ریاست جوناگڑھ کا مقدمہ قانونی طور پر مضبوط ہے پاکستان اس کی پیروی کرے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جونا گڑھ سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جائے، مسئلہ کشمیر اور مسئلہ جونا گڑھ کی نوعیت جدا جدا ہے، دونوں کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے، حکومت یوم الحاق جونا گڑھ اور یومِ سقوطِ جوناگڑھ کو سرکاری سطح پر منائے۔انہوں نے کہا کہ اس سال بھی نیشنل لائبریری اسلام آباد میں جونا گڑھ یوم سیاہ بنایا جائے گا۔ اس موقع پر جونا گڑھ کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے ڈاکومنٹری بھی پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ ریاست جوناگڑھ برصغیر کی 562 شاہی ریاستوں میں سے ایک تھی، مغل دور میں نواب بہادر خان بابی ایک بااثر عہدے پہ فائز ہوئے، 1748 میں نواب بہادر خان بابی نے بطور آزاد حکمران جونا گڑھ پر

حکومت شروع کی۔اس کے بعد سے جوناگڑھ پہ انہی کے خاندان کی حکومت رہی۔ تقسیمِ ہند سے قبل جوناگڑھ ایک فلاحی ریاست تھی جس میں ریاست کے باشندگان کی تعلیم، صحت اور خوراک ریاست مفت فراہم کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جونا گڑھ برٹش انڈیا کی دوسری امیر ترین ریاست تھی جبکہ مالی اعتبار سے یہ پانچویں بڑی ریاست تھی۔ یہاں کے لوگ معاشی طور پر خود کفیل تھے اور یہ ایک مضبوط ریاست تھی جس کا اپنا ریلوے کا نظام تھا۔تقسیمِ ہند کے وقت انڈین ایکٹ 1947 کے تحت شاہی ریاستوں کو آزادی دی گئی تھی کہ وہ چاہیں تو بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کریں اور چاہیں تو آزاد رہیں۔ریاست جوناگڑھ کا پاکستان سے الحاق بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا خواب تھا۔ چنانچہ اس وقت ریاست کے نواب مہابت خانجی نے جوناگڑھ کی ریاستی کونسل سے مشاورت کے بعد پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا اور 15ستمبر 1947 کو پاکستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ دستخط کئے۔انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین کے مطابق 15ستمبر 1947 سے جونا گڑھ پاکستان کا حصہ بن گیا، 9 نومبر 1947 تک جوناگڑھ پاکستان کا باقاعدہ حصہ رہا، اس دوران جوناگڑھ کی سرکاری عمارت پر پاکستان کا پرچم لہراتا تھا، 9 نومبر 1947 کو بھارتی فوج نے ریاست میں پیش قدمی کرتے ہوئے غیر قانونی قبضہ جما لیا۔ انہوں نے کہا کہ جوناگڑھ وہ پہلا پاکستانی علاقہ تھا جس پر بھارت نے پاکستانی حدود کراس کرتے ہوئے قبضہ کیا، جوناگڑھ قانونی طور پہ پاکستان کا حصہ ہے جو بھارتی قبضہ

میں ہے۔قائداعظم اور نواب آف جوناگڑھ کے مابین طے پانے والی الحاقی دستاویزایک انتہائی اہم قانونی دستاویز ہے۔ محمد جہانگیر خانجی نے کہا کہ مسئلہ جوناگڑھ تب تک اپنی قانونی حیثیت رکھتا ہے جب تک الحاقی دستاویز کی قانونی حیثیت برقرار ہے، پاکستان بننے کے بعد جونا گڑھ کے لوگوں نے پاکستان کی ترقی میں بہت نمایاں کردار اد اکیا، ریاست کے عوام کیونکہ تجارت پیشہ تھے اور معاشی طور پر مضبوط تھے۔نواب آف جونا گڑھ نے کہا کہ آج بھی جونا گڑھ سے تعلق رکھنے والے 2.5 ملین سے زائد افراد پاکستان میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں، آج بھی پاکستان کے بڑے تجارتی گروپ دادا بھائی، آدم جی گروپ، پردیسی گروپ، دائود گروپ یہ سب جونا گڑھ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں، ایسے ہی پاکستان بننے کے ساتھ ہی بینکنگ اور صنعت کے شعبے میں بھی ریاست جونا گڑھ کے افراد نے اپنا حصہ ڈالا اور پاکستان کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ حکومت کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہماری خواہش کے مطابق ریاست جونا گڑھ کو پاکستان کے نقشے میں شامل کیا، ہم علاقائی اور عالمی قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عالمی قوانین کے مطابق ہمارا جائز حق یعنی ہماری ریاست پر بھارت کا قبضہ ختم کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ ریاست جونا گڑھ کو اس کا حق دلوانے میں اپنا بھرپور عملی کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیر خارجہ سے درخواست ہے کہ مسئلہ جوناگڑھ پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر بات کرتے ہوئے اس مسئلہ پر بھی بات کریں، حکومت پاکستان کو قائد اعظم کے ویزن کے مطابق اس مسئلہ کو بین الاقوامی سطح پر ضرور اٹھانا چاہیے، پاکستان کا کیس مضبوط ہے اور عالمی قوانین کے مطابق ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں