برقع پوش خواتین سے لیکر چند سال کی بچی کا نظروں سے ایکسرے ۔۔۔۔ آخر کچھ مردوں کو اس سے ملتا کیا ہے ؟ خاتون صحافی ابصاء کومل کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) جب سے ہوش سنبھالا تو ہر صبح اسکول جاتے ہوئے سیکٹر ایف سکس کی گلیوں میں غیر ملکی خواتین کو عام شہریوں کی طرح بلا خوف و خطر ٹریک سوٹ پہنے چہل قدمی، ورزش اور جاگنگ کرتے دیکھا۔مختلف اوقات میں بازاروں میں شاپنگ کرتے اور ہستے مسکراتے دیکھا اور یہی نہیں

نامور خاتون صحافی ابصاء کومل اپنے ایک بلاگ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ بلکہ ان غیر ملکیوں کو مارگلہ کی پہاڑیوں میں گھِرے اِس چھوٹے سے پرسکون شہر کے گن گاتے بھی دیکھا۔ شہر کے دیگر رہائشوں سے لے کر دور دراز علاقوں سے یہاں ملازمت کے لیے آئے ڈرائیورز اور گھروں کے چوکیداروں کو بھی کبھی آنکھ اٹھا کر اِن لوگوں کو عجیب مخلوق سمجھ کر گھورتے نہ دیکھا بلکہ کوئی راستہ بھٹک جائے تو اُس کی مدد کرتے اور اپنے اچھے رویے پر داد وصول کرتے۔کہنے والے کہتے تھے کہ اسلام آباد ایک منصوبہ بندی کے تحت بنایا گیا شہر ہے اور ملک بھر کے شہروں کے ماحول اور لوگوں کے رویوں کا اندازہ اس شہر کو دیکھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔ ازراہِ مذاق دوسرے شہروں کے دوست ہمیں ‘پپو یا برگر بچے‘ کہتے آئے ہیں۔ میں سمجھتی تھی کہ یہ بات شہر کی کم آبادی اور صاف ستھرے ماحول کی وجہ سے ہے مگر ایسا نہیں تھا۔کچھ سہیلیوں کا گرمیوں کی چھٹیوں میں دیگر شہروں میں وقت گزرتا تھا خاص طور پر لاہور میں، وہ جب واپس آتیں تو زندہ دلان شہر لاہور کے کھانوں سے لے کر بسنت کے رنگوں تک کے قصے سناتیں۔ لیکن ایک شکوہ ضرور کرتیں کہ اگر کوئی خاتون گاڑی چلا رہی ہو یا بازار میں شاپنگ کر رہی ہو تو منچلے لڑکوں کی جانب سے آوازیں کسنا اور نمبر پھینک کر جانا معمول کی بات ہے، کئی نوجوان تو گھر تک پیچھا بھی کرتے۔ تب سمجھ آیا دوست اسلام آباد کا دیگر شہروں سے موازنہ کرنا کیوں پسند نہیں کرتے تھے۔

اب وہی ہلڑ بازی چاند راتوں پر یا یوم آزادی کی شاموں پر اسلام آباد کی جناح سپر مارکیٹ اور دیگر علاقوں میں نظر آنے لگی ہے۔ یہاں تک کہ ہم سمیت زیادہ تر لڑکیوں کو اِن خاص تہواروں کہ موقع پر گھر والوں کی جانب سے گھر سے نہ نکلنے کی تلقین کی جانے لگی ہے۔ آج حالات یہ ہیں کہ آپ جینز شرٹ میں ملبوس ہوں یا چادر میں، نوجوانوں سے لے کر آپ کے والد کی عمر تک کے مرد اپنی نظروں سے آپ کو اپنے وجود پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں گھورنے کو کوئی معیوب بات نہیں سمجھا جاتا کیونکہ اس کے خلاف قوانین نہیں ہیں لہذا ہر گزرتی لڑکی، کم عمر بچی یا برقعہ پہنے ہاتھ میں دو بچے تھامے خاتون ہی کیوں نہ ہوں، اپنی آنکھوں سے اس کا ایکس رے کرنے کو یہ حضرات اپنا حق سمجھتے ہیں۔ مزید کیا کچھ ہوتا ہے اس کو فی الحال رہنے دیتے ہیں۔ یہاں یہ واضح کر دوں کہ اس سب میں اُن مرد حضرات کی بات نہیں کی جا رہی، جو اپنی اچھی تربیت کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسے افراد کی شرح بہت کم رہ گئی ہے۔اب آخر میں اِس تحریر کو لکھنے کے مقصد پہ آ جاتے ہیں۔ ہفتے کی صبح مارگلہ کی پہاڑیوں پر ہائیکنگ کے لیے جانے والی تین غیر ملکی لڑکیوں کو چھیڑے جانے کا شرمناک واقعہ پیش آیا، پولیس نے اطلاع ملتے ہی دو ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا۔کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہم ملکی خواتین نے اس قسم کی چھیڑ خانی پر ہار مان لی ہے اور حکومت سے تحفظ مانگنے کا مطالبہ کرنا بھی بہت کم کر دیا ہے۔ جو ساتھی خواتین، عورت مارچ کے موقع پر مطالبات کرتی ہیں اُن کی حوصلہ شکنی، جس انداز میں کی جاتی ہے، وہ ہم ہر سال دیکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں